پاکستان

سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی منفی تقریر، جسٹس عمر عطا بندیال برس پڑے

جج کی برطرفی کی سفارش سینئر ججز کرتے ہیں کوئی اور نہیں، پہلے آئین کے آرٹیکل 211 کی رکاوٹ عبور کرنا ہو گی

سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی منفی تقریر، جسٹس عمر عطا بندیال برس پڑے‘ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم کسی کو جو دل میں آئے وہ بولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیزصدیقی کی برطرفی کے خلاف درخواست میں ریمارکس دیے کہ کھل کر بات کرنے کی آڑ میں جو دل میں آئے وہ بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیزصدیقی کی برطرفی کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ کھل کر بات کرنے کی آڑ میں جو دل میں آئے وہ بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ ماضی میں سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کیخلاف اپیلیں سنتی رہی ہے۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ماضی کے مقدمات میں جوڈیشل کونسل کی حتمی سفارش نہیں آئی تھی، شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کونسل سفارش پر عمل بھی ہوچکا۔ شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ جج کو صرف ایک انتظامی حکم پرنہیں نکالاجاسکتا۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارا کام آئین کی تشریح کرنا ہے ترمیم نہیں آپ چاہیں تو پارلیمان سے آئین میں ترمیم کروا لیں، ہمارا کام آئین میں گنجائش پیدا کرنا نہیں۔

جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ جج کی برطرفی کی سفارش سینئر ججز کرتے ہیں کوئی اور نہیں، پہلے آئین کے آرٹیکل 211 کی رکاوٹ عبور کرنا ہو گی۔ انہوں نے مزید ریمارکس بھی دیے کہ شوکت عزیزصدیقی نے عدلیہ سے متعلق بہت منفی تقریر کی، جس عدلیہ کو برا کہا اب اسی میں واپسی کیلئے کوشش کر رہے ہیں، عدلیہ نے شوکت عزیز صدیقی کے حقوق کا تحفظ کیا تھا، دو ماہ بعد شوکت عزیز صدیقی نے عدلیہ کے ساتھ جوابا جو کیا وہ بھی دیکھیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.