پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مسلم لیگ ن میں اختلافات،شہبازشریف یا مریم نوازکس کا بیانیہ چلےگا؟

مسلم لیگ ن میں اختلافات شدت اختیارکرنےلگے،شہبازشریف یا مریم نوازکس کا بیانیہ چلےگا؟ سنسنی خیزدعویٰ سب کےسامنےآگیا

مسلم لیگ ن میں اختلافات شدت اختیارکرنےلگے،شہبازشریف یا مریم نوازکس کا بیانیہ چلےگا؟ سنسنی خیزدعویٰ سب کےسامنےآگیا،رپورٹ کے مطابق حقیقت سامنے آ ہی گئی جس کی امید ایک عرصہ سے کی جا رہی تھی۔ جس کا ہونا ٹھہر چکا تھا۔ لوگ اس بارے میں ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے تھے۔ کچھ کو اس کے ہونے سے تکلیف تھی اور کچھ اس کو ذاتی Allegiance کی بنیاد پر کھڑی خاندانی عمارت کے مسمار ہونے کے قدرتی عمل سے تشبیہ دے رہے تھے۔

پی ایم ایل (ن) کے اندر پڑنے والی دراڑ اس وقت واضح ہو گئی جب میاں شہباز شریف عدلیہ سے ملنے والی ضمانت کی بنیاد پر جیل سے باہر آئے اور پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوششیں شروع کر دیں جس کے مطابق ان کی پہلی ترجیح پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پارلیمنٹ کی سطح پر اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنا تھا۔ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز اپنے چچا کے اس عزم سے سخت نالاں ہوئیں اور انہیں یہ کہنا پڑا کہ شہباز شریف پی ڈی ایم کی بجائے اپنے اتحاد کے منتر کو صرف پارلیمنٹ تک ہی محدود رکھیں۔ مریم نواز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی اب پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہیں اور جب تک وہ معافی نہیں مانگتیں انہیں اتحاد میں واپس نہیں لیا جائے گا۔

اس حوالے سے مختلف چہ میگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ اب کے بعد مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے دو متوازی بیانیے سننے کو ملیں گے جن میں شہباز شریف کا بیانیہ مفاہمتی ہوگا جبکہ مریم نواززہر سے بھرپور مزاحمتی بیانیے کو پروان چڑھائیں گی ۔ چنانچہ یہ بات خارج ازامکان قرار نہیں دی جا سکتی کہ اندرونی اختلاف کے باعث پارٹی دو حصوں میں منقسم ہو جائے جس کے بعد شہباز شریف کو اتحاد کی پالیسی کی بنیاد پر حمایت مل سکتی ہے جبکہ پارٹی کے اندر مریم نواز کے نفرت آمیز بیانیے کے حامی بھی موجود ہوں گے۔

وہ لوگ جو شریف خاندان کے اندرونی حالات سے آگاہ رہے ہیں، ان کے مطابق، شریف خاندان میں تقسیم کی بات طویل عرصے سے چلی آ رہی تھی تاہم اس سے قبل پارٹی کے اندر تقسیم نہیں ہو سکی کیونکہ شہباز شریف اور ان کے رفقاء کے خیال میں مفاہمتی منتر کی تکمیل کے لئے ان کو مؤثر حمایت میسر نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بڑے بھائی کے سائے میں اپنی سیاست کو پروان چڑھایا لیکن اس کے ساتھ اپنے بیانیے کی ضرورت سے کبھی آنکھیں بند نہیں کیں جس کی حتمی تکمیل کا انحصار ان حالات کے اتار چڑھائو کے ساتھ منسلک ہے جو مستقبل قریب میں تشکیل پا سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم بات شہباز شریف کے خلاف زیر التوا مقدمات کی نوعیت ہے۔اس معاملے میں یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اس وقت مفاہمتی مہم چلانے کی بنیادی وجہ زیرالتوا مقدمات ہیں۔شہباز شریف کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ان کے پاس عملی طور پر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کاکوئی دفاع نہیں ہے اور اگر ان کے مقدمات کے غیرجانبدارانہ فیصلے ہوئے تو وہ انتخابی سیاست سے نااہل ہونے کے علاوہ دیگر سزائوں سے بھی بچ نہیں پائیں گے۔ اس لئے قوی امکان ہے کہ وہ تصادم کی راہ پر چلنے سے گریز کریں گے چاہے انہیں اس کی کتنی بھی بھاری قیمت کیوں ادانہ کرنی پڑے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.