پاکستان

حادثہ کس طرح پیش آیا؟ٹرین کا ڈرائیور بول پڑا

ڈہرکی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کے ڈرائیور کا کہناہےکہ حادثے میں ثابت ہوجائیگا کہ وہ سوئے ہوئے نہیں تھے۔

 سرسید ایکسپریس ٹرین کے ڈرائیور اعجاز احمد نے کہا کہ رات 3 بج کر 40 منٹ کے وقت کراچی آنے والی ٹرین کے ڈبے گرے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر ہنگامی بریک لگانے کی بہت کوشش کی لیکن گاڑی نہیں رکی۔انہوں نے کہا کہ سرسید ایکسپریس کی دو ائیرکنڈیشنڈ بزنس کلاس بوگیاں اور ایک ڈائیننگ کار متاثر ہوئی جب کہ حادثے میں ملت ایکسپریس کی 3 اے سی بزنس اور 8 اکانومی کلاس بوگیاں ڈاؤن ٹریک پر گریں۔

انہوں نے کہا کہ سرسید ایکسپریس کی دو ائیرکنڈیشنڈ بزنس کلاس بوگیاں اور ایک ڈائیننگ کار متاثر ہوئی جب کہ حادثے میں ملت ایکسپریس کی 3 اے سی بزنس اور 8 اکانومی کلاس بوگیاں ڈاؤن ٹریک پر گریں۔

اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ حادثے کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوجائیگا کہ میں اور اسسٹنٹ ڈرائیور سوئے نہیں تھے۔

ڈہرکی ٹرین حادثے میں اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 32 ہوگئی ہے اور متعدد افراد زخمی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.