پاکستانفیچرڈ پوسٹ

سینئر خاتون صحافی عاصمہ شیرازی پر غیر ملکی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کرنے کے الزامات، حقیقت کیا ہے؟ چونکا دینے والی رپورٹ منظر عام پر

سوشل میڈیا صارفین نے ملک کے چند صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دعوے کیے ہیں کہ ان کا جھکا پڑوسی ملک انڈیا کی جانب ہے

سینئر خاتون صحافی عاصمہ شیرازی پر غیر ملکی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کرنے کے الزامات، حقیقت کیا ہے؟ چونکا دینے والی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر مخدوم شہاب الدین نامی ایک ولاگر نے اپنی ویڈیو میں پاکستان کے معروف صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے نام پر انڈیا کے نیٹ ورکس چلائے جا رہے ہیں۔ شہاب الدین نامی اس ولاگر نے پاکستان میں آزادی صحافت کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی ایک غیر سرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے ڈی این ایس کو انڈیا میں موجود سرور سے منسلک ہونے کا دعوی کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ فریڈم نیٹ ورک کی جس ویب سائٹ پر وہ پاکستان کے میڈیا پر پابندیوں کے متعلق لکھتی ہیں یا اس سے منسلک ہیں وہ ویب سائٹ انڈیا سے چلائی جا رہی ہے تاہم اب شہاب الدین کے ناقدین بھی ان کی ویب سائٹ کے ڈی این ایس کو انڈیا میں موجود ایک سرور سے منسلک ہونے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے سوشل میڈیا پر چند ولاگرز اور سوشل میڈیا صارفین نے ملک کے چند صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دعوے کیے ہیں کہ ان کا جھکا پڑوسی ملک انڈیا کی جانب ہے اور جن ویب سائٹس پر یہ صحافی پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے متعلق رائے دیتے ہیں وہ انڈیا سے چلائی جاتی ہیں۔ ان دعوؤں کا انحصار ایسے شواہد پر کیا گیا ہے جس میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اب ویب سائٹس کی ہوسٹنگ یا ان کے سرورز پڑوسی ملک انڈیا میں ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا نے اس ضمن میں آئی ٹی ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کسی بھی ویب سائٹ کا ڈی این ایس ہوتا کیا ہے، اس کی کسی ویب سائٹ کے لیے اہمیت کیا ہے اور کیا اس کا کس دوسرے ملک میں موجود سرور سے منسلک ہونا اس کی طرف جھکا کی ترجمانی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.