پاکستان

تمہیں پہلا کلمہ مکمل طور پر نہیں آتا لیکن کوششیں کرو اور سنا دو؟ خواتین ٹیچرز اکثر یہ سوال کیوں کرتی ہیں؟ حیران کن رپورٹ آگئی

پاکستان میں شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے بہت سے بچے اِس طرح کے سوالات اور باتیں سنتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں

تمہیں پہلا کلمہ مکمل طور پر نہیں آتا لیکن کوششیں کرو اور سنا دو؟ خواتین ٹیچرز اکثر یہ سوال کیوں کرتی ہیں؟ حیران کن رپورٹ آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شیعہ کیا گھوڑے کی پوجا کرتے ہیں؟ کیا حلیم میں سنی بچوں کا گوشت ملا ہوتا ہے؟ کیا تم لوگ سبیل کے پانی میں تھوکتے ہو؟ یار، برا نہ ماننا لیکن ٹیچر کہہ رہی ہیں کہ تمہیں پہلا کلمہ پورا نہیں آتا۔ ذرا سنا دو گی؟ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین نے انٹرویوز کے دوران بتائیں۔ پاکستان میں شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے بہت سے بچے اِس طرح کے سوالات اور باتیں سنتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ اور کچھ کے لیے یہ سلسلہ بڑے ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان پاکستان کی آبادی کا تقریبا 20 فیصد حصہ ہیں اور یہ لوگ اکثر خود کو حملوں اور توہینِ مذہب جیسے الزامات میں گھرا ہوا پاتے ہیں۔ رواں سال جنوری اور گذشتہ سال یعنی 2020 میں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جہاں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کھلِ عام شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مظاہرے کیے۔ اس قسم کے زیادہ تر مظاہرے کراچی، کوئٹہ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں دیکھنے میں آئے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ایک اندازے کے مطابق 2001 سے لے کر آج تک پاکستان میں 2600 شیعہ افراد مختلف حملوں اور ٹارگٹ گلنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان حملوں کی ایک بڑی وجہ اس کمیونٹی کے خلاف نفرت آمیز مواد اور دقیانوسی خیالات ہیں جو معاشرے کے ایک طبقے میں رائج ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دستیاب نفرت آمیز مواد ان حملوں کا جواز بتائی جاتی ہیں جو اس کمیونٹی کی مساجد اور لوگوں پر کالعدم تنظیموں یا دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تجربہ مختلف رہا ہے۔ کسی کو دوست اچھے ملے، کسی کو رشتہ دار یا پھر کسی سے گھر والوں نے قطع تعلق صرف اس بات پر کر لیا کیونکہ انھوں نے اپنے فرقے سے باہر شادی کی۔ لیکن ایک لفظ جو ان سب نے مشترکہ طور پر بچپن میں یا بڑے ہونے کے بعد سنا ہے، وہ ہے کافر۔ حِرا زینب کا بچپن کراچی، لاہور اور گوجرانوالہ میں گزرا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ دوسری جماعت میں تھیں تب ہی ان سے ان کے عقیدے کے متعلق سوال ہونا شروع ہو گئے تھے۔

مجھ سے بچپن میں میری دوست نے پوچھا کہ کیا تم لوگ گھوڑے کی پوجا کرتے ہو؟ اس وقت میرے پاس جواب نہیں تھا۔ لیکن پہلی بار یہ احساس ہوا تھا کہ میں شاید باقی لوگوں سے مختلف ہوں۔ ہچکچاہٹ تو نہیں لیکن تھوڑا سا عجیب لگتا تھا، اتنی ذاتی بات کسی کو بتاتے ہوئے کہ میری شناخت کیا ہے۔ اسی طرح بینش عباس زیدی صحافی ہیں اور کراچی کی رہائشی بھی۔ ان کے لیے کراچی میں بڑا ہونا مشکل نہیں تھا۔ بینش کے لیے مشکل مرحلہ بڑے ہونے کے بعد شروع ہوا۔ بچپن میں تو یہ تفریق پتا ہی نہیں تھی۔ 1990 کی دہائی میں ہمارے برابر والے گھر میں سنی لوگ رہتے تھے۔ وہ بھی اس لیے پتا چلا کیونکہ وہ نذر یا نیاز نہیں کھاتے تھے۔ لیکن جب میری امی شدید بیمار ہوئیں، تو سب سے پہلے انھیں کے گھر سے کھانا آیا اور مدد کی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.