پاکستان

حمزہ شہباز کی تاجر رہنماؤں سے ملاقات، مسائل حل کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں نمائندگی کرنے کی یقین دہانی، حکومت پنجاب کیساتھ کیا سلوک کر رہی ہے؟ سب کچھ بتا دیا

پنجاب کی کمزوری پاکستان کی کمزوری ہے، پنجاب اور پاکستان سے محبت رکھنے والے جتنا جلد سمجھ جائیں بہتر ہوگا: حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی پری بجٹ حکمت عملی کے تحت مختلف شعبہ جات کے وفود سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری،پنجاب بھر سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنماؤ ں سے ملاقات اور گفتگو۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبا ز نے تاجر وں کو یقین دلایا کہ پنجاب اسمبلی کے فورم پر ان کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مسائل کو بھر پور طریقے سے اٹھائیں گے۔ پی ٹی آئی نے تین سال میں پنجاب کی ترقی کو ریورس گیئر لگا دیا ہے۔ تین سال میں پنجاب کے ساتھ وہی تباہی ہورہی ہے جو 9 سال میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کی۔ پنجاب کی کمزوری پاکستان کی کمزوری ہے، پنجاب اور پاکستان سے محبت رکھنے والے جتنا جلد سمجھ جائیں بہتر ہوگا۔ پنجاب کی معاشی و انتظامی اور زرعی کمزوری و پسماندگی کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان دشمنوں کو ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں وفاق کے قابل تقسیم محاصل میں سے پنجاب کے حصے میں 11 فیصد کمی ہوئی۔ مالی سال 2019-20 کے 1601 ارب کے مقابلے میں پنجاب کے لئے رواں مالی سال 2020-21 میں 1432 ارب مختص ہوئے۔اس کٹوتی کے ساتھ ملنے والا بجٹ بھی پنجاب حکومت کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا اور اسے استعمال نہیں کیاجاسکا۔ مسلم لیگ (ن)کے دور میں پنجاب میں ریونیو وصولی میں 121 فیصد اضافہ ہو۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پانچ سال کے عرصے میں 142 ارب سے بڑھ کر ریونیو وصولی 315 ارب ہوئی۔ تین سال گزرنے کے باوجود پنجاب حکومت مالی سال 2018 کی ریونیو وصولی کے ہدف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی۔ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال میں پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 238 ارب روپے کی کمی کی گئی۔ پنجاب میں ترقیاتی بجٹ میں 150 فیصد کا اضافہ ہوا، ہم اپنے پانچ سال میں 2220 ارب تک ترقیاتی بجٹ لے کر گئے۔ پنجاب کی تاریخ میں سب سے زیادہ بجٹ ہمارے پانچ سال میں پہلی بار 1757 ارب روپے یعنی 80 فیصد پنجاب کی ترقی پر خرچ ہوا۔پی ٹی آئی تین سال میں جنوبی پنجاب کے لئے پراپگنڈہ کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔ مسلم لیگ (ن)حکومت کے آخری سال کے مقابلے میں جنوبی پنجاب کے لئے پی ٹی آئی نے بجٹ میں 50 فیصد کمی کی۔مالی سال 2017-18 میں 36 فیصد اضافے کے ساتھ جنوبی پنجاب کے لئے 228.6 ارب مختص ہوئے تھے۔مالی سال 2020-21 میں 117.95 ارب روپے جنوبی پنجاب کے لئے رکھے گئے۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی 822 دستیاب آسامیوں میں سے232 پر تقرریاں ہوئی ہیں۔حمزہ شہبازمسلم لیگ (ن)کے دور کے مختص کردہ بجٹ کو آدھا کرکے جنوبی پنجاب کیسے ترقی کرے گا؟

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.