پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عمران حکومت نے بھی کپاس کے کاشتکاروں پر چھریاں چلا دیں، زرعی ایمرجنسی پروگرام میں کپاس کی فصل کو کھڈے لائن لگا دیا

حکومتی ناقص پالیسیوں کے باعث تین سال سے بتدریج کپاس کی فصل کی کاشت اور کاٹن بیلز کی پیداوار میں 40 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے

عمران حکومت نے بھی کپاس کے کاشتکاروں پر چھریاں چلا دیں، زرعی ایمرجنسی پروگرام میں کپاس کی فصل کو کھڈے لائن لگا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں آج بھی ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے نمبر پر ہے لیکن ٹیکسٹائل سیکٹر کو رواں دواں رکھنے والی کپاس حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں، کپاس کی کاشت ہر سال مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے زرعی ایمرجنسی پروگرام میں 300 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی لیکن حیران کن طور پر اس پروگرام میں کپاس کی فصل کو شامل نہیں کیاگیا۔ یہی وجہ ہے کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشہ تین سال سے بتدریج کپاس کی فصل کی کاشت اور کاٹن بیلز کی پیداوار میں 40 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے، رواں سیزن میں صرف 30 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت سے 30 لاکھ بیلز ہی متوقع ہیں جبکہ مالی سال 2018 میں پروڈکشن 70 لاکھ بیلز تھیں۔ اس حوالے سے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے وائس چئیرمین شیخ عاصم سعید کا کہنا ہے کہ ملکی برآمدات میں ٹیکسٹائل مصنوعات کا 61 فیصد حصہ ہے سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والی فصل کی کاشت پر توجہ نہ ہونے کے باعث صرف ایک سال میں کپاس کی درآمد دوگنا ہوگئی ہے،مالی سال 2019 میں 5 لاکھ ٹن اور 2020 میں 8 لاکھ ٹن کپاس درآمد کی گئی۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق کپاس کی درآمد بڑھا کے ٹیکسٹائل کی برآمدات کو بڑھانا ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب نہیں کرتی۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن جنوبی پنجاب کے کنوینر خواجہ انیس کا کہنا ہے کہ کسان ناقص بیج اور زرعی ادویات کو کپاس کی فصل کی تباہی کا سبب سمجھتے ہیں کاٹن جنرز کپاس پر عائد ٹیکسزز کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اپٹما کپاس کی کاشت کو بڑھانے پر زور دے رہی ہے، ایسے میں دیکھنا یہ ہے کے حکومت ایسے کون سے اقدامات کرتی ہے جس سے ایک مرتبہ پھر کپاس کی فصل ملکی معیشت کا سہارا بن جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.