پاکستانفیچرڈ پوسٹ

بہنوں اور بیٹیوں کے سسرال والے چاہتے ہیں کہ ان کی بہو اور بیویوں کو وارثت میں حصہ ملے لیکن جب انہی سسرال والوں کو؟ صحافی اناصر عباسی نے آئینہ دکھا دیا

معاشرہ کے مرد کی طرح ہمارے نظام کا مائنڈ سیٹ بھی ایسا ہے کہ عورت اگر وراثت میں اپنا حصہ مانگے تو اس کیلئے مشکلات پیدا کر دی جاتی ہیں

بہنوں اور بیٹیوں کے سسرال والے چاہتے ہیں کہ ان کی بہو اور بیویوں کو وارثت میں حصہ ملے لیکن جب انہی سسرال والوں کو؟ صحافی اناصر عباسی نے آئینہ دکھا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کے شوہر اور سسرال والوں کی بھی ایسے مال پر نظر ہوتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی، بہو کو وراثت میں حصہ ملے۔ تاہم، یہی شوہر اور یہی سسرال والے اپنی بہنوں بیٹیوں کو ترساتے اور بلیک میل کرتے ہیں اور اپنے حق سے دستبرداری کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں جس کا ان کی بیوی، بہو کو سامنا ہوتا ہے۔ یہ پیسہ بیٹی اور بیوی کا ہے۔ اس پیسے پر شوہر یا سسرال والوں کی نظر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بہنوں بیٹیوں کا حق ہے کہ وہ کس طرح اپنے پیسے کو استعمال کریں اور اگر ان کے شوہر واقعی کسی مالی مشکل میں نہ ہوں تو میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ جن بیٹیوں بہنوں کو اپنے والدین کی وراثت میں سے جو مال و دولت ملتی ہے وہ اسے اپنے ہاتھ میں رکھیں، اس کا استعمال ایسے کریں کہ ان کی اپنی مالی ضرورتیں پوری ہوں اور انہیں کسی دوسرے کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ یہاں یہ بنیادی بات ہے کہ بیوی ہو، بیٹی یاماں ان کی ہر جائز ضرورت کو پورا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ یہاں ایسے بھی مرد دیکھے گئے ہیں جو عورت کو وراثت میں حصہ ملتے ہی اس کے مال کو اپنے قبضہ میں لے کر عیاشیوں میں اڑا دیتے ہیں یا بیوی سے پوچھے بغیر اپنی مرضی سے اس مال کے مالک بن کر اسے خرچ کر دیتے ہیں۔ ایسے کئی کیس سامنے آئے کہ شوہر بیوی کے بیچ طلاق ہو گئی اور یوں خاتون کا جو پیسہ تھا وہ مرد کے ہی قبضہ میں رہا۔ ہمارا قانون تو وہی کہتا ہے جو اسلام کی تعلیمات ہیں یعنی وراثت کی تقسیم شرعی احکامات کے مطابق ہو گی لیکن یہاں المیہ یہ ہے کہ معاشرہ کے مرد کی طرح ہمارے نظام کا مائنڈ سیٹ بھی ایسا ہے کہ عورت اگر وراثت میں اپنا حصہ مانگے تو اس کے لیے اتنی مشکلات پیدا کر دی جاتی ہیں کہ خدا کی پناہ، یعنی کورٹ کچہری اور محکمہ مال کے دفتروں میں اسے اتنا خوار کر دو کہ کوئی عورت وراثت میں اپنا حصہ لینے کا سوچنا بھی چھوڑ دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے قانون بھی بنایا، ضلعی لیول پر کمیٹیاں بھی بنائیں اور یہ بھی وضع کیا کہ عورت کو وراثت کا حق اور اس کے حق کے مطابق تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور اگر محکمہ مال کا افسر دو ماہ کے اندر ایسا نہیں کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی لیکن عملا ایسا کچھ نہیں ہو رہا جس کا تمام تر نقصان عورت کو ہو رہا ہے، اسے وراثت میں اس حق سے محروم کیا جا رہا ہے جس کا حکم اسلام دیتا ہے۔ اس بارے میں میڈیا خاموش ہے، حکومتیں اور ریاست بے سدھ ہے، حقوق نسواں والوں کو اس سے ملنا کچھ نہیں اس لیے این جی اوز کی بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں۔ ان حالات میں وہ لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جو بہنوں بیٹیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق وراثت میں ان کا حصہ دیتے ہیں اور اپنے بیٹوں بیٹیوں کو اپنی زندگی میں تعلیم دیتے ہیں ان کی ذہن سازی کرتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے مال میں سب کا حق ویسا ہی ہے جس کا فیصلہ اسلام نے کر دیا اور اس پر کسی کا کسی پر کوئی احسان نہیں نہ کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی بہانے کسی دوسرے کا حق کھا لے یا اسے معاف کر وا لے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.