پاکستان

امریکا کی تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستان کو بچوں سے متعلق ایسی فہرست میں شامل کرلیا کہ ملک بھر میں طوفان برپا ہو جائے گا

حکومت پاکستان انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے کم سے کم معیارات پر بھی پورا نہیں اترتی تاہم وہ اس کے لیے نمایاں کوششیں ضرور کر رہی ہے

امریکا کی تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستان کو بچوں سے متعلق ایسی فہرست میں شامل کرلیا کہ ملک بھر میں طوفان برپا ہو جائے گا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق حکومت پاکستان انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے کم سے کم معیارات پر بھی پورا نہیں اترتی تاہم وہ اس کے لیے نمایاں کوشیشں ضرور کر رہی ہے۔ ان کوششوں میں سنہ 2018 کے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے قانون (پی ٹی پی اے)کو حتمی شکل دینا، سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے نئے پانچ سالہ قومی ایکشن پلان کو اپنانا شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسانی سمگلنگ کا نشانہ بننے والے متاثرہ افراد کی تحفظ کی کوششوں کو تو مجموعی طور پر برقرار رکھا لیکن پابند سلاسل مزدور متاثرین کی شناخت اور ان کی مدد کرنے کی کوشیشں کافی کم رہیں۔

اس فہرست میں شامل ممالک پر پابندیوں کا اطلاق یکم اکتوبر2021ء سے ہو گا جو سنہ 2022ء کے پورے مالی سال میں جاری رہیں گی تاہم جن ممالک کو سی ایس پی اے شرائط کے مطابق صدارتی استثنی، رعایت، یا امداد کی بحالی ملے گی، وہ اس سے مستثنی ہوں گے۔ کوئی بھی ایسا شخص جس کی عمر 18 برس سے کم ہو اور اسے ریاست کی مسلح افواج میں یا دیگر فورسز میں بھرتی یا دشمنی کے لیے استعمال کیا گیا ہو اسے چائلڈ سولجر یا کم عمر سپاہی کہا جاتا ہے۔ کم عمر سپاہی کی اصطلاح ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو کسی بھی طرح معاونت کے کردار مثلا باورچی، پورٹر، پیغام رساں، نرس، گارڈ یا جنسی غلام کے طور پر کام کر رہاے ہوں۔

2021ء کی سی ایس پی فہرست میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، برما، جمہوریہ کانگو، ایران، عراق، لیبیا، مالی، نائیجیریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان، شام، ترکی، وینزویلا اور یمن کی حکومتیں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ تین ممالک کانگو، صومالیہ اور یمن سنہ 2010 سے ہر سی ایس پی اے فہرست کا حصہ بنتے آ رہے ہیں جب اس نامزدگی کا آغاز ہوا تھا۔ سنہ 2010 میں شائع ہونے والی پہلی سی ایس پی اے کی فہرست میں چھ حکومتوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور دس سال بعد یہ فہرست دگنی ہو گئی اور ان ممالک کی تعداد چودہ جبکہ سنہ 2021 میں یہ تعداد پندرہ تک جا پہنچی ہے، جو کسی بھی ایک سال میں ممالک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

واضح رہے کہ مختلف ممالک کو سی ایس پی اے کی فہرست میں متعدد ذرائع سے ملنے والی معلومات پر شامل کیا جاتا ہے جس میں امریکی حکومتی اہلکاروں کی اپنی تحقیق، اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں، بین الاقوامی اداروں، مقامی اور غیر ملکی این جی اوز اور ذرائع ابلاغ کے عالمی و مقامی اداروں کی رپورٹس شامل ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.