پاکستان

حکومت بہت بڑے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ گوادر کے کسی گھر سے ایک گھونٹ پانی؟ ہوشرباء انکشافات

گوادر کے لوگ اکثر زرد رنگ والے پانی کی تصویر شیئر کرتے ہیں اور ساتھ عنوان لکھتے ہیں کہ سی پیک کے جھومر گوادر سٹی میں پینے کا پانی

حکومت بہت بڑے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ گوادر کے کسی گھر سے ایک گھونٹ پانی؟ ہوشرباء انکشافات سامنے آگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر گوادر جا رہے ہیں جہاں وہ متعدد منصوبوں کا افتتاح اور پہلے سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیں گے۔ جیسے ہی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے عمران خان کے گوادر جانے کا باقاعدہ اعلان ہوا تو میرے ذہن میں پہلا سوال یہ تھا کہ وزیراعظم گوادر میں پانی کون سا پیئں گے؟ آبِ دبئی، ویکنگ، بلیو واٹر، نیسلے یا کسی اور برانڈ کا؟ یا پھر وہ ڈی سیلینیشن پلانٹ کے معاہدے کے بعد اس زرد پانی کو صاف کر کے پیئں گے، وہی زرد رنگ کا پانی جس کی تصاویر گوادر کے لوگ اکثر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کرتے ہیں اور ساتھ عنوان لکھتے ہیں کہ سی پیک کے جھومر گوادر سٹی میں پینے کا پانی۔

وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر گذشتہ شام گوادر کے ماہی گیروں کو کہا گیا کہ شہر میں وی آئی پی موومنٹ متوقع ہے لہذا وہ صبح سات سے شام چھ بجے تک سمندر پر جانے سے گریز کریں، تاکہ کسی پریشانی اور خطرے سے دوچار نہ ہوں۔ یہ احکامات اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گوادر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم جس وقت پدی زر کے ساحل پر بنی پانچ کلومیٹر طویل شاہراہ سے اپنے قافلے کے ہمراہ گزریں گے تو شاید کچھ دیر کے لیے یہ شاہراہ مکمل بند کر دی جائے لیکن چند روز پہلے اسی سڑک پر گوادر کی خواتین، مرد اور بچوں نے ٹائر جلا کر اور ہاتھوں میں گدلے اور زرد پانی کی بوتلیں اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔ مقامی نیوز چینلز پر شیئر کی گئی اسی احتجاج کی ایک ویڈیو میں ایک خاتون کہتی ہیں حکومت کہتی ہے کہ گوادر میں کورونا ہے، احتیاطی تدابیر اپنا۔ مگر کورونا سے زیادہ خطرناک تو یہ آنکاڑہ ڈیم کا پانی ہے جو ہمیں فراہم کیا جا رہا ہے۔

گوادر کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر ہسپتال میں 80 فیصد مریض پیٹ کی بیماری اور ٹائیفائیڈ کی شکایت کے ساتھ ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو میرا ایک پیغام ہے کہ جب پیر کو ساحل کے ساتھ بنے میرئین ڈرائیو روڈ سے گزریں تو گاڑی سے اتر کر دو منٹ کے لیے کسی بھی گھر میں داخل ہو کر اس کی ٹینکی کا ڈھکن ضرور کھول کر دیکھیں اور اس گھر سے ایک گھونٹ پانی پی کر دیکھیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ ہم گوادر کے لوگ کیسا پانی استعمال کر رہے ہیں اور پی رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتال میں کام کرنے کی وجہ سے ڈاکٹر نے اپنا نام تو ظاہر نہیں کیا لیکن کہا کہ ہمارے گھروں کی ٹینکیوں میں جو پانی آ رہا ہے وہ پینا تو دور کی بات ہاتھ منھ دھونے کے لائق بھی نہیں، مگر ہم اس سے نہانے اور برتن دھونے پر مجبور ہیں۔ گوادر میں آبادی سے گزرتے ہوئے آپ کو سروں پر سلور کی برتن اٹھائے گزرتی ہوئی خواتین بھی دکھائی دیتی ہیں۔ گوادر میں میگا پراجیکٹس کے شروع ہونے کے بعد دس برس کے عرصے میں یہ چوتھی بار ہے کہ یہاں کے مکین پانی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں کی 80 فیصد آبادی ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہے اور یہی ان کا ذریعہ روزگار ہے۔

ایک ماہی گیر نے کہا یہ پانی ہم کیسے پیئں، چلیں ہم میں سے کچھ تو روز مارکیٹ سے فلٹر شدہ گیلن 80 سے 100 روپے میں خرید لیں گے۔ کوئی زیادہ قوت رکھتا ہو تو منرل واٹر کی ایک دو بوتلیں 50 سے 60 روپے میں روز خرید لے گا لیکن یہ بتائیں کہ غریب کیا کرے، وہ تو یہی پانی پی کر بیمار ہونے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے پاس اسے ابالنے کے لیے نہ سلنڈر ہے نہ وافر مقدار میں لکڑی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.