پاکستانفیچرڈ پوسٹ

صحافی و اینکر پرسن ندیم ملک کو ایف آئی اے کی طرف سے جھٹکا دے دیا گیا، جواب میں صحافی نے تہلکہ خیز اعلان کر کے حکمرانوں کی نیندیں اڑا دیں

انھیں شک ہے کہ انھیں ایف آئی اے سے نوٹس دلوانے میں اہم عہدوں پر فائز حکومتی عہدیداروں کا ہاتھ ہے: ندیم ملک

صحافی و اینکر پرسن ندیم ملک کو ایف آئی اے کی طرف سے جھٹکا دے دیا گیا، جواب میں صحافی نے تہلکہ خیز اعلان کر کے حکمرانوں کی نیندیں اڑا دیں

تفصیلات کے مطابق مقامی صحافی اور نجی ٹی وی چینل سما میں ندیم ملک لائیو ٹاک شو کے میزبان ندیم ملک کا کہنا ہے کہ وہ کسی قمیت پر بھی ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے اور اگر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)انھیں گرفتار کرنا چاہتا ہے تو ایف آئی اے کے حکام یہ شوق بھی پورا کر لیں۔ ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے ندیم ملک کو اپنے ایک بیان کی وضاحت اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے منگل کے روز پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ 28 اپریل کو آن ایئر ہونے والے اپنے ایک پروگرام میں ندیم ملک نے دعوی کیا تھا کہ ایف آئی اے کے چند سینئر اہلکاروں نے انھیں بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دلوانے کے لیے اس وقت کی اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو شاہراہ دستور پر واقع ایک عمارت میں طلب کیا گیا تھا۔

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ انھیں شک ہے کہ انھیں ایف آئی اے سے نوٹس دلوانے میں اہم عہدوں پر فائز حکومتی عہدیداروں کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے بدعنوانی کے بڑے سکینڈل جن میں رنگ روڈ کا منصوبہ، لاہور میں شروع کیے گئے مختلف منصوبوں اور حکومت میں شامل ایک اہم شخصیت کے اسرائیل کے مبینہ دورے کو بینقاب کرتے آ رہے ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق اہم عہدوں پر بیٹھے یہ افراد جن کا ان منصوبوں میں مفاد وابستہ ہے، ان انکشافات سے خوش نہیں تھے۔ ندیم ملک کا کہنا تھا کہ وہ اس نوٹس پر ایف آئی اے میں پیش ہوں گے نہ ہی قبل از وقت ضمانت کروائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کسی صحافی سے اس کی خبر کے ذرائع کے بارے میں پوچھنا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنھوں نے جرم کیا ہے ان کو پکڑیں اور انھوں نے تو بطور صحافی اس مبینہ جرم کے بارے میں معلومات دی ہیں۔

ندیم ملک کے بقول اس عمارت میں فوج کے حساس ادارے کے دو سینئر افسران موجود تھے، جنھوں نے احتساب عدالت کے جج کو ان کی 30 سال قبل ملتان میں بنائی گئی قابل اعتراض ویڈیو دکھائی اور دھمکی دی کہ اگر انھوں نے اس ریفرنس میں فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق نہ دیا تو وہ یہ ویڈیو وائرل کر دیں گے۔ ندیم ملک نے اس انکشاف میں فوج کے حساس اداروں کے افسران کے نام ظاہر نہیں کیے اور نہ ہی فوج نے اس پر کوئی بیان جاری کیا ہے۔ اپنے بیان میں اینکر نے کہا کہ یہی ویڈیو پاکستان مسلم لیگ نواز کے ہتھے بھی چڑھ گئی، جس کی بنیاد پر یہ جماعت ارشد ملک سے اپنے حق میں فیصلہ چاہتی تھی۔ یاد رہے کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں جج ارشد ملک نے نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں ان کو بری کر دیا تھا۔ بعدازاں ایف آئی اے نے ندیم ملک کو اس بیان سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.