پاکستان

اسلام آباد تشدد کیس میں اہم پیش رفت؛پیروی کا آغاز

اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں لڑکی لڑکے کو برہنہ کرکے تشدد کرنے سے متعلق کیس میں بڑی پیش رفت ہوگئی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ای الیون کے علاقے میں لڑکی لڑکے کو برہنہ کرکے تشدد کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ پولیس نے مرکزی ملزم عثمان مرزا اور دیگر عطا الرحمان،فرحان اور ادارس قیوم بٹ کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔

کیس میں بڑی پیش رفت یہ ہوئی کہ متاثرہ لڑکے اسد اور لڑکی نے کیس کی باقاعدہ پیروی کا آغاز کردیا۔ متاثرہ لڑکے اور لڑکی کی جانب سے وکیل حسن جاوید شورش کیس کی پیروی کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ لڑکا اور لڑکی سیکورٹی ایشوز کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے، جتنا بہیمانہ یہ واقعہ ہوا ہے پولیس کو زیادہ سے زیادہ وقت دینا چاہیے، یہ مفاد عامہ کا کیس ہے عوام میں ڈر ہے اس واقعے کے بعد کہیں ٹہریں گے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، یہ ہمارا امتحان ہے متاثرین کے ساتھ ظلم ہوا اس لیے جسمانی ریمانڈ مزید دیا جائے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ متاثرہ لڑکا لڑکی کے 164 کے بیانات کرادیئے ہیں، لڑکے سے چھ ہزار اسی وقت لے گئے ، گیارہ لاکھ پچیس ہزار یہ بھتہ لیتے رہے ہیں مختلف اوقات میں، متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے بیان میں مزید ملزمان کا نام سامنے آیا ہے، 14 یا 15 ملزمان تھے اڑھائی گھنٹے کی ویڈیو انہوں نے بنائی تھی، تین لوگوں نے الگ الگ ویڈیوز بنائی ہیں ، یہ ننگے کر کے ان متاثرین کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں ، اس کیس میں جے آئی ٹی بھی بن چکی ہے اور ہم نے مزید دفعات بھی لگائی ہیں، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایس آئی ٹی بنی ہے، پسٹل ریکور کرنے کا تھانہ آئی نائن الگ سے پرچہ درج ہو چکا ہے، جس ملزم نے گیارہ لاکھ پچیس ہزار روپے لیے اس کو ابھی گرفتار کرنا ہے، موبائل برآمد کرنے ہیں تین موبائلز سے ویڈیو بنی ہے۔ پولیس نے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل مقدمے میں دو شریک ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا چکے ہیں۔ متاثرہ لڑکی اور لڑکے کے بیان کی روشنی میں مقدمے میں بھتہ مانگنے،پیسے چھیننے اورزیادتی کی مختلف دفعات بھی شامل کی گئیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.