پاکستانفیچرڈ پوسٹ

جانے والے تو چلے گئے لیکن مکمل اختیار کس کے پاس ہوگا؟ افغان معاملہ پر پاکستان امریکا سے کیا حاصل کر سکتا ہے؟ عاصمہ شیرازی نے بتا دیا

پاکستان زمینی حقائق کے مطابق پالیسی ترتیب دے گا یا چند افراد کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے گا اس کا فیصلہ بھی جلد کرنا ہو گا

جانے والے تو چلے گئے لیکن مکمل اختیار کس کے پاس ہوگا؟ افغان معاملہ پر پاکستان امریکا سے کیا حاصل کر سکتا ہے؟ عاصمہ شیرازی نے بتا دیاہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق افغانستان اور خطے کی صورت حال دیکھ کر محسوس ہو رہا ہے کہ دائروں کا سفر قومی ہی نہیں خطے اور عالمی سطح پر بھی جاری ہے۔ خوف اور وسوسوں، خدشوں اور خطروں کا موسم پھر سے لوٹ آیا ہے۔ شدت اور انتہا پسندی، طاقت کے نتیجے میں مصلحت مزید خدشات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ دور خطے میں اور علاقائی سطح پر طاقت اور آمریت کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں طالبان آ نہیں رہے بلکہ آ چکے ہیں۔ کسی پرانی فلم کا نیا سیکوئیل، پرانی کتاب کے نئے ابواب اور پرانی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ منظر عام پر آ رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی ان نئے کرداروں کو سمجھ دار، اہل اور معاملہ فہم قرار دے رہے ہیں۔ یہ مصلحت پسند بیانات پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کے کس حد تک ترجمان ہیں اس کو سمجھنے سے پہلے حقائق کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

افغان طالبان نے ایک طرف اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ہے تو دوسری جانب خطے کی طاقتوں کو مسلسل انگیج بھی کیا ہوا ہے۔ امریکی افواج کے انخلا نے طالبان کے حوصلوں کو بے پناہ مضبوط کر دیا ہے اور کیوں نہ ہو سپر پاور کو ایک نامکمل ایجنڈے کے ساتھ افغانستان سے رخصت کرنا ان کے لیے قابل تحسین تو ہے مگر طالبان سے نئے دور میں نئے تقاضوں کے مطابق توقعات باندھنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ کابل فتح نہیں ہوا لیکن فتح ہونے کو رہ کیا گیا ہے۔ اس دوران طالبان کا ایرانی سرحد پر کنٹرول، پشتون علاقوں میں زور ایک نئی گیم کا از سر نو آغاز بھی ہے۔ ایران میں ہونے والے مذاکرات کسی نہ کسی انڈر سٹینڈنگ کی علامت ہیں جبکہ طالبان کے لیے واحد اور پوٹینشل چیلنج داعش کی صورت موجود ہے۔ اس معاملے پر ایران اور افغان طالبان ایک صفحے پر ہیں۔ خطے میں موجود یہ دو قوتیں کسی طور داعش کو پنپنے نہیں دیں گی جبکہ افغان طالبان کے تہران میں مذاکرات کے دوران انڈین وزیر خارجہ کی تہران آمد بہت سے پیغامات لیے ہوئے ہے۔

دوسری جانب چین، روس اور ایران افغانستان کے معاملے پر یکجا اپروچ اپنائے ہوئے ہیں۔ انڈین چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی نئے علاقائی نقشے پر اس قدرتی اتحاد کو درگزر نہیں کر سکتا۔ امریکہ کی نئی پیش بندی چین کے خلاف ہے تو خطے میں کون سی طاقت امریکہ کے ساتھ کھڑی ہو گی یہ بھی دیکھنا اہم ہو گا۔ یہ طے ہے کہ سب سے زیادہ جس ریاست پر بوجھ پڑے گا وہ پاکستان ہی ہے۔ پاکستان زمینی حقائق کے مطابق پالیسی ترتیب دے گا یا چند افراد کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے گا اس کا فیصلہ بھی جلد کرنا ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.