پاکستان

پاکستان کا پہلا قومی پرچم کس نے تیار کیا اور اس پر شروع ہونے والا نیا تنازع کیا ہے؟ حیرت زدہ کر دینے والی حقیقت بے نقاب ہو گئی

اگر وہ اجازت دیں تو وہ قرول باغ میں اپنے درزی سے اپنی شیروانی بھی حاصل کر لیں، بورک وائٹ کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا

پاکستان کا پہلا قومی پرچم کس نے تیار کیا اور اس پر شروع ہونے والا نیا تنازع کیا ہے؟ حیرت زدہ کر دینے والی حقیقت بے نقاب ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ تین جون 1947 کی بات ہے۔ امریکہ کے مشہور جریدے لائف میگزین کی فوٹو جرنلسٹ مارگریٹ بورک وائٹ دہلی آئی ہوئی تھیں جہاں صحافتی ذمہ داریوں کے تحت ان کا آل انڈیا مسلم لیگ کے مختلف رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ایسی ہی ایک ملاقات کے دوران وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نواب زادہ لیاقت علی خان کے ساتھ بیٹھی تھیں کہ وہاں معروف لیگی کارکن نور الصباح بیگم کے صاحبزادے محمد ثمین خان پہنچے۔ لیاقت علی خان نے ثمین خان سے مارگریٹ بورک وائٹ کا تعارف کروایا اور بتایا کہ مارگریٹ نے دہلی کی چند تصاویر بنائی ہیں اور ساتھ ہی ثمین سے یہ درخواست کی کہ وہ مارگریٹ کو شہر کی سیر کروا دیں۔

اس ملاقات کے حوالے سے محمد ثمین خان نے بعدازاں اپنی ایک تحریر میں لکھا کہ میں مارگریٹ بورک وائٹ کو لے کر دہلی گھمانے لگے جہاں انھوں نے متعدد تصاویر بھی اتاریں۔ محمد ثمین خان نے مارگریٹ بورک وائٹ سے کہا کہ اگر وہ اجازت دیں تو وہ قرول باغ میں اپنے درزی سے اپنی شیروانی بھی حاصل کر لیں۔ بورک وائٹ کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ ثمین خان ان کے ساتھ اپنے درزی کی دکان پر پہنچے، دکان کا نام حسین برادرز تھا۔ وہاں موجود درزی نے ثمین خان کو بتایا کہ ایک ضروری چیز سلنے کے لیے آ گئی تھی، اس لیے وہ ان کی شیروانی تیار نہیں کر سکے۔ درزی کے اس جواب پر ثمین نے استفسار کیا کہ ایسی بھی کیا ضروری چیز تھی جس پر درزی نے بتایا کہ مجھے پاکستان کا پہلا پرچم سینے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ ثمین خان لکھتے ہیں کہ درزی اس وقت پرچم کی سلائی کے آخری مرحلے پر تھا۔ بورک وائٹ نے درزی سے کہا کہ کیا وہ اس منظر کی تصویر کشی کر سکتی ہیں، درزی نے بخوشی اجازت دے دی۔ بورک وائٹ نے تصویر کھینچی، جو قیام پاکستان کے تین دن بعد یعنی 18 اگست 1947 کو لائف میگزین کے خصوصی شمارے میں شائع ہوئی۔ اس تصویر میں پرچم سینے والے درزی کا نام الطاف حسین لکھا گیا تھا۔

حسین برادرز کی دکان دو بھائیوں کی ملکیت تھی جن کے نام ماسٹر افضال حسین اور ماسٹر الطاف حسین تھے۔ دونوں بھائیوں کا تعلق تو بلند شہر سے تھا مگر انھوں نے اپنے کاروبار کے لیے دہلی کا انتخاب کیا تھا جہاں وہ بہت جلد شیروانیاں سینے میں مہارت رکھنے کے حوالے سے مشہور ہو گئے۔ ان کی دکان سے جو ممتاز شخصیات اپنی شیروانیاں سلوایا کرتی تھیں ان میں انڈیا کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین، جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمود حسین، ڈاکٹر شفیق الرحمن قدوائی، مولانا ظفر احمد انصاری اور بیرسٹر آصف علی کے نام سرفہرست تھے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ان شخصیات کو اس دکان کا پتہ ممتاز مسلم لیگی رہنما ڈاکٹر عبدالغنی قریشی نے دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالغنی قریشی کے مشورے پر ماسٹر افضال حسین اور ماسٹر الطاف حسین آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی شامل ہوئے اور نوجوانوں کی تنظیم نیشنل گارڈ میں بھی خدمات سر انجام دیں۔ ان بھائیوں کو مسلم لیگ کے مختلف جلسوں، اجتماعات اور جلوسوں کے علاوہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے قیام گاہ اور آل انڈیا مسلم لیگ کے دفتر میں بھی خدمات انجام دینے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ جون 1947 کے اوائل میں جب یہ بات نوشتہ دیوار ہو گئی کہ پاکستان کا قیام عمل میں آ رہا ہے تو نواب زادہ لیاقت علی خان نے ماسٹر الطاف حسین کو اپنی قیام گاہ پر بلایا اور انھیں امیر الدین قدوائی کا تیار کردہ پرچم کا ڈیزائن دکھایا اور کہا کہ اس ڈیزائن کو عملی شکل دے دیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.