پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پڑھی لکھی خواتین طلاق نہیں تو پھر کس قسم کی خواتین طلاقت کا تقاضا کرتی ہیں؟ معاشرے میں سنسنی پھیلا دینے والی خبر سامنے آگئی

آج بھی یہ سوچ رائج ہے کہ خواتین کا پڑھنا لکھنا اور گھر سے نکل کر کام کرنا ان کی گھریلو زندگی اور خاص کر ان کی ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے

پڑھی لکھی خواتین طلاق نہیں تو پھر کس قسم کی خواتین طلاقت کا تقاضا کرتی ہیں؟ معاشرے میں سنسنی پھیلا دینے والی خبر سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لڑکی پڑھے گی تو قابو میں نہیں آئے گی، لڑکی گھر سے باہر نکل کر کام کرے گی تو ہاتھ سے بھی نکل جائے گی۔۔۔ یہ سب فقرے برسوں پرانے تو ہیں لیکن یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستانی معاشرے میں کہیں نہ کہیں آج بھی یہ سوچ رائج ہے کہ خواتین کا پڑھنا لکھنا اور گھر سے نکل کر کام کرنا ان کی گھریلو زندگی اور خاص کر ان کی ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر خواتین پڑھ لکھ بھی لیں تو اکثر انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور تمام تر تعلیم کے باوجود بھی اکثر خواتین صحیح معنوں میں خودمختار نہیں ہو پاتیں۔ کچھ ایسی ہی گفتگو پاکستان کے ٹوئٹر صارفین کے درمیان ایک ٹوئٹر سپیس کے دوران بھی ہوئی۔

شیری نامی سرگرم ٹوئٹر صارف نے، جو اس سپیس میں موجود تھیں، ایک ٹویٹ کیا کہ انھوں نے ایک ٹوئٹر سپیس میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ پڑھی لکھی عورت کو طلاق ہی ہوتی ہے۔ شیری نے اپنی ٹویٹ سے کئی صارفین کی توجہ اس سوچ کی جانب مبذول کرائی جو پاکستان کے قدامت پسند معاشرے میں آج بھی رائج ہے۔ شیری کی اس ٹویٹ کے جواب میں جہاں کئی صارفین نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایسی ٹوئٹر سپیس پر پابندی کا مطالبہ کیا تو کئی صارفین نے یہ بھی کہا کہ پڑھی لکھی عورت اپنے حقوق اور ایک بری شادی سے نکلنے کا راستہ بخوبی جانتی ہے۔

صحافی اویس سلیم نے لکھا: عورت پڑھ لکھ جائے گی تو آوارہ ہو جائے گی، یہ ذہنیت صدیوں سے موجود ہے۔ بے نظیر لیاقت نے اس ٹویٹ کے جواب میں لکھا: ہاں یہ سچ ہے کیونکہ اسے اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے اور وہ ایک بری شادی سے نکلنا جانتی ہے اور صرف پڑھی لکھی عورت ہی اپنی طاقت اور قدر سے واقف ہوتی ہیں۔ ہما چغتائی نے بھی کچھ ایسے خیالات کا اظہار کیا اور لکھا: کیونکہ اسے (پڑھی لکھی عورت کو)غلط اور صحیح کی پہچان ہو جاتی ہے۔ عثمان نامی ایک صارف نے لکھا: میری تین رشتہ دار خواتین طلاق یافتہ ہیں اور وہ پڑھی لکھی بھی نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.