پاکستان

رنگ روڈ راولپنڈی سکینڈل کی تہلکہ خیز رپورٹ کی اندرونی کہانی سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی ہکا بکا رہ گئے

کمشنر محمود نے مختلف لوگوں کو فائدے کے لیے بنائے ٹھلیاں کا انٹرچینج کیپیٹل اسمارٹ سٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے مورت میں شفٹ کردیا گیا

رنگ روڈ راولپنڈی سکینڈل کی تہلکہ خیز رپورٹ کی اندرونی کہانی سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی ہکا بکا رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی جاوید چوہدری نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو اپنے کانوں اور آنکھوں پریقین نہیں آیا وہ رکے اور زور دے کر کہا آپ دوبارہ بتایے گا اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈی جی نے اپنی بات دہرا دی وزیراعظم نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگا لی اور لمبے لمبے سانس لینے لگے کمرے میں پن ڈراپ خاموشی چھا گئی تمام لوگ وزیراعظم کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ یہ 13 جولائی کا دن تھا اینٹی کرپشن کی تحقیقاتی ٹیم نے رنگ روڈ راولپنڈی کی رپورٹ تیار کر لی تھی ڈی جی رپورٹ لے کر وزیراعظم کے پاس آ گیا رپورٹ کا پہلا حصہ کمشنر راولپنڈی اور رنگ روڈ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کیپٹن محمود اور لینڈ ریکوزیشن کلکٹر وسیم تابش کے بارے میں تھا وزیراعظم کو بتایاگیا کمشنر محمود نے پانچ انٹرچینج سیاسی دباؤ اور ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان کے فائدے کے لیے بنائے ٹھلیاں کا انٹرچینج کیپیٹل اسمارٹ سٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے مورت میں شفٹ کردیا گیا۔

وسیم تابش کے ذمے رنگ روڈ کی لینڈ ریکوزیشن تھی اس نے اجازت کے بغیر اڑھائی ارب روپے کی زمین خرید لی اور پھر 21 مارچ 2021 کو اپنی بہو کے نام ٹاپ سٹی میں بارہ پلاٹس خرید لیے بہو ہاؤس وائف ہے اور اس کا کوئی سورس آف انکم نہیں وسیم تابش نے یہ دعوی بھی کیا میں نے 40 لاکھ فی پلاٹ خریدا تھا ہم نے ٹاپ سٹی سے تصدیق کرائی پتا چلا ایک پلاٹ کی کم سے کم مالیت پونے دو کروڑ روپے ہے یہ 20 کروڑ بنتے ہیں وسیم تابش کی ان کے علاوہ بھی بے شمار پراپرٹیز ہیں۔ وزیراعظم نے پوچھا آپ نے کتنے ایریا کی تحقیقات کیں اینٹی کرپشن نے بتایا ہم نے رنگ روڈ سے تین تین کلومیٹر کے فاصلے پر موجود زمینوں کا ریکارڈ چیک کیا ذلفی بخاری کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا گیا سجاد حسین شاہ نام کے ایک شخص نے 2020 میں رنگ روڈ کے ساتھ چار ہزار کنال زمین خریدی ا لآصف ڈویلپرز کے نام سے اسکیم بنائی اور سرکاری منظوری اور کاغذات کے بغیر پلاٹس بیچنا شروع کر دیے۔

ایک انٹرچینج ائیرپورٹ سے ساڑھے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ایم ٹو سے جنگل میں نکال دیا گیا کیپٹن محمود سے پوچھا گیا آپ نے یہ کیوں کیا تو اس کا جواب تھا یہ جگہ بیس سال بعد آباد ہو جائے گییہ فیوچر پلاننگ ہے کیپٹن محمود کے بھائی کرنل مسعود مکہ سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے کنسلٹنٹ ہیں یہ اسکیم بلوچستان کے شہر لورا لائی کے ایک شہری فرید نے بنائی وہ لورا لائی سے آیا اور اس نے 80 کروڑ روپے کی زمین خرید لی اور کرنل مسعود کو اپنا کنسلٹنٹ بنا لیا ہم نے فرید سے پوچھا تمہارے پاس 80 کروڑ روپے کہاں سے آئے؟ اس نے جواب دیا میں نے لورا لائی میں اپنا پلاٹ بیچا تھا اس سے کہا گیا لورا لائی کیا پورے بلوچستان میں اتنی مہنگی زمین نہیں اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس کے پاس لورا لائی کے پلاٹ کی خریدوفروخت کے کاغذات تھے اور نہ ہی کرنل مسعود کے ساتھ کنسلٹنسی کا کوئی کانٹریکٹ اور تنخواہ کا کوئی معاہدہ لہذا فرید بادی النظر میں کرنل مسعود اور کیپٹن محمود کا فرنٹ مین ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.