پاکستان

ذوالفقار علی بھٹو کے ”ہرفن مولا“ کزن ممتاز بھٹو سے لوگ خوفزدہ کیوں رہے ہیں؟ چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی

دشمنی کے دیرینہ سلسلوں کے باوجود ممتاز بھٹو نے کبھی اپنے ساتھ کوئی محافظ نہیں رکھا، انھیں جہاں کہیں بھی جانا ہوتا، اپنے ڈرائیور کے ساتھ پہنچ جاتے

ذوالفقار علی بھٹو کے ”ہرفن مولا“ کزن ممتاز بھٹو سے لوگ خوفزدہ کیوں رہے ہیں؟ چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لیاری سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی لال بخش بھٹو سے میری بات چیت کچھ زیادہ تھی۔ اجلاس ختم ہوا تو میں نے اس واقعے کے بارے میں ان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ یک بیک چھا جانے والی خاموشی کا سبب احترام کی وہ روایت تھی جو ممتاز بھٹو جیسی شخصیت کے لیے خاص ہے اور کسی بحث میں الجھے بغیر ان کا بیٹھ جانا اس قبائلی انا کی غمازی کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر ایک کے منھ نہیں لگتے۔’ اپنے شخصی احترام اور قد آور شخصیت کے باوجود وہ سندھ میں ایک متنازع شخصیت تھے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جب وہ سندھ کے وزیر اعلی بنے تو انھوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ سندھ یک لسانی نہیں دو لسانی صوبہ ہے، انھوں نے سندھی زبان کے سرکاری زبان بنائے جانے کا بل صوبائی اسمبلی سے منظور کروا دیا۔ اس بل کی منظوری سے سندھ کی اردو بولنے والی آبادی یعنی شہری سندھ میں بے چینی پیدا ہو گئی جو پر تشدد فسادات پر منتج ہوئی ان فسادات میں بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصانات ہوئے جب کہ اندرون سندھ کے شہروں اور قصبوں میں آباد اردو بولنے والوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ اس طرح سندھ میں مستقل طور پر لسانی کشیدگی پیدا ہو گئی جس کا نکتہ عروج اسی اور نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم کے قیام اور اس کے عروج کی صورت میں سامنے آیا۔

ممتاز علی بھٹو اس زمانے میں اگرچہ پیپلز پارٹی جیسی ملک گیر اور قومی جماعت کا حصہ تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی لسانی یا نسلی امتیاز پر مبنی سوچ کے اظہار سے کبھی نہ چوکے۔ بعد کے برسوں میں یعنی ذوالفقار علی بھٹو کا زمانہ گزر جانے کے بعد وہ اپنے ان خیالات میں مزید پختہ ہوئے اور انھوں نے سندھ نیشنل فرنٹ کے پلیٹ فارم سے ان ہی خیالات کا پرچار شروع کیا جن کے لیے ماضی میں انھیں ہدف تنقید بنایا جاتا تھا۔ واضح رہے کہ اس جماعت کے بانی وہ خود تھے۔ ‘یہ تاثر اتنا قوی کیوں تھا کہ ممتاز بھٹو کی شخصیت میں ایک سخت مزاج وڈیرے اور بے رحم سردار ہمہ وقت اپنی مونچھوں کو تا دیے بیٹھا رہتا ہے؟’ ان کے حلقہ احباب، حلقہ انتخاب اور انھیں جاننے والوں سے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ملتا، سوائے اس کے کہ یہ سندھ کے قبائلی مزاج کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔

آج ٹی وی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے بتایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ان کے حلقے میں پروگرام کے لیے پہنچے۔ پروگرام کا فارمیٹ یہ تھا کہ ووٹر سردار ممتاز بھٹو سے سوالات کریں گے جن کا جواب ریکارڈ کر لیا جائے گا۔ ریکارڈنگ شروع ہونے سے قبل ممتاز بھٹو نے گاں کے لوگوں سے سندھی میں مخاطب ہو کر کہا کہ ‘جو دل چاہے پوچھ لینا لیکن یہ بھی خیال رکھنا کہ تم نے اور ہم نے اکٹھے رہنا ہے۔’ ان کی شخصیت اور رعب داب کے کئی واقعات زبان زد عام ہیں۔ ان کے کسی عزیز کا انتقال ہوا تو ان کے حلقہ انتخاب اور گاں دیہات کے لوگ ان کے ہاں تعزیت کے لیے پہنچے لیکن وہاں آنے کے باوجود کسی میں ہمت نہ تھی کہ وہ ان سے کہہ سکے کہ سردار صاحب، فاتحہ خوانی کر لی جائے۔ کچھ دیر کے بعد کچھ صحافی اور دیگر لوگ اسی محفل میں شریک ہوئے تو تعزیت کے لیے آنے والے وہ لوگ بھی فاتحہ خوانی میں شریک ہو گئے۔

جہاں تک ممتاز بھٹو صاحب کے مزاج کا تعلق ہے، ان کی طویل زندگی کے مختلف واقعات کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے مزاج کی تشکیل میں دو عوامل کا کردار بنیادی ہے، اول ضد اور دوم تواضع۔ تواضع کا تعلق ایک روایت سے ہے، روایت یہ ہے کہ رتو ڈیرو میں ان کے اوطاق پر جو کوئی بھی پہنچتا ہے، اس کی تواضع ایک مقامی ہندو حلوائی کی بنائی ہوئی مٹھائی ‘توشہ’ (عرف عام میں بالو شاہی)اور نمک پاروں سے ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی ان کے ہاں گئے تو ان کی تواضع بھی اسی مٹھائی سے کی گئی۔ رتو ڈیرو میں یہ مشہور ہے کہ اس حلوائی کا کاروبار ممتاز بھٹو کے اوطاق ہی کے دم سے ہے۔ ان کی ضد کی مثالیں بھی کم نہیں لیکن کراچی کے ایک ممتاز صحافی رفعت سعید کا ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ رفعت نے ان کے بارے میں مقامی ہفت روزے میں ایک رپورٹ شائع کر دی جس میں ان پر کچھ الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ممتاز بھٹو نے ان الزامات کو پانچ کروڑ روپے کے ہرجانے کے مطالبے کے ساتھ عدالت میں چیلنج کر دیا۔ دوران مقدمہ ایسی صورت پیدا ہو گئی جس میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ ہفت روزے سے دو لاکھ روپے ہرجانہ وصول کر کے مقدمہ نمٹا دیا جائے۔ ممتاز بھٹو ڈٹ گئے اور کہا کہ یہ مقدمہ معافی مانگنے تک ختم نہیں ہو گا۔ ایک طرف اپنے مؤقف پر اتنی شدت سے اصرار تھا اور دوسری طرف وہ مدعا علیہ کے وکیل خواجہ نوید کے ساتھ سندھ کلب میں بیٹھ کر دوپہر کا کھانا بھی کھایا کرتے تھے۔ مدعا علیہ رفعت سعید، عین ان دنوں جب یہ مقدمہ چل رہا تھا کسی دوسرے میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور اس کی طرف سے انٹرویو کے لیے ان کے پاس پہنچے تو ممتاز بھٹو خوش دلی کے ساتھ ان سے ملے، تواضع کی، انٹرویو بھی دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ انھیں وہ سب پرانی باتیں یاد ہیں اور یہ کہ وہ مقدمہ کبھی واپس نہیں لیں گے۔ مقدمے پر قائم رہنا ان کے نزدیک ایک اصولی معاملہ تھا کیونکہ ہفت روزے میں رپورٹ کی اشاعت سے ان کے مقام اور مرتبے کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ممتاز بھٹو نے قانون کی تعلیم برطانیہ کے معروف تعلیمی ادارے لنکنز ان سے حاصل کی تھی لیکن عملی طور پر پریکٹس انھوں نے کبھی نہیں کی لیکن اس ساتھ ہی یہ حقیقت بھی بڑی دلچسپ بہت کہ مقامی عدالت سے لے کر اعلی ترین عدالتوں تک، ان کاسابقہ جس مقدمے سے بھی پڑا، وہ ہمیشہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ ان کے مزاج اور شخصیت سے واقف لوگ بتاتے ہیں کہ ان کے ہاں قانون کے احترام کی روایت بہت پختہ تھی۔ سندھ کے وڈیروں اور سرداروں کے ہاں قانون شکن عناصر کی سرپرستی اور اپنے گفتنی و نا گفتنی مقاصد کے لیے ایسے لوگوں کو اپنے ہاں جمع رکھنے کی روایت پرانی ہے لیکن ممتاز علی بھٹو کی دبنگ اور بھاری بھرکم شخصیت کے باوجود ان کا کوئی بڑے سے بڑا مخالف بھی ان پر یہ الزام عائد نہیں کر سکتا کہ انھوں نے کبھی ایسے لوگ پالے ہوں یا ان کے سر پر ہاتھ رکھا ہو اور یہ اس کے باوجود تھا کہ علاقے میں اراضی کے معاملات اور سیاسی تنازعات کی وجہ سے ارد گرد کے بہت سے قبائل کے ساتھ ان کی دشمنی تھی۔ سندھ میں ایسے ہی اختلافات اور دشمنیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے بڑے زمیندار اور وڈیرے محافظوں کے بڑے بڑے لشکروں کے ساتھ حرکت میں آتے ہیں لیکن دشمنی کے ان دیرینہ سلسلوں کے باوجود ممتاز بھٹو نے کبھی اپنے ساتھ کوئی محافظ نہیں رکھا۔ انھیں جہاں کہیں بھی جانا ہوتا، اپنے ڈرائیور کے ساتھ پہنچ جاتے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.