پاکستانفیچرڈ پوسٹ

لوگ جب یہ جان جاتے ہیں کہ میں جانوروں کی ڈاکٹر ہوں تو وہ مجھ پر ہنستے ہیں اور ………………؟ ناقابل یقین رپورٹ منظر عام پر آگئی

ڈاکٹر سحرش پیرزادہ کا تعلق نوشہروفیروز سے ہے اور وہ دیہی سندھ کی ان چند لیڈی وٹرنری ڈاکٹروں میں سے ہیں جو فیلڈ میں کام کر رہیں ہیں

لوگ جب یہ جان جاتے ہیں کہ میں جانوروں کی ڈاکٹر ہوں تو وہ مجھ پر ہنستے ہیں اور ………………؟ ناقابل یقین رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سحرش پیرزادہ بتاتی ہیں کہ ان کی بیچ میں کل 55 طالب علم تھے، جن میں سے صرف چار لڑکیاں تھیں۔ شروع شروع میں کلاس فیلو لڑکے اس فیلڈ میں لڑکیوں کے آنے پر حیران ہوتے تھے۔ بعض اوقات وہ ہوٹنگ وغیرہ بھی کرتے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا انھوں نے ہمیں قبول کر لیا۔ میری کلاس کی چار لڑکیوں میں سے صرف میں نے ڈگری مکمل کر کے باقاعدہ پریکٹس شروع کی ہے، ایک لڑکی نے اسی فیلڈ میں آگے کی تعلیم جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ دو لڑکیاں ڈگری مکمل کر کے گھروں تک محدود ہو گئیں۔

سحرش بتاتی ہیں کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد ابتدا میں وہ بھی گھر بیٹھ گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر انھوں نے باقاعدہ پریکٹس شروع کی تو لوگ ان پر ہنسیں گے۔ مگر وہ بتاتی ہیں کہ یہ وقت تھا کہ ان کے گھر والوں نے ان کی ہمت افزائی کی اور کہا کہ سرکاری ملازمت نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، تم کام جاری رکھو۔ ابتدائی دنوں میں لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے تھے۔ پہلے تو یہ سمجھتے تھے کہ میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں، جب انھیں معلوم ہوتا تھا کہ میں جانوروں کی ڈاکٹر ہے، تو وہ ہنستے اور حیران بھی ہوتے۔ لوگوں کی باتیں سن کی دل برداشتہ ہو کر میں دوبارہ گھر بیٹھ گئی۔ پھر سوچا کہ آگے بڑھنا ہے تو لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنا ہی پڑے گا۔

میں نے فیصلہ کیا کہ اگر لوگوں کے بارے میں سوچوں گی تو آگے نہیں بڑھ سکوں گی پھر میں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ ‘لوگ کیا کہیں گے’، اب میں اپنے دل کی بات سنتی ہوں اور دل سے کام کرتی ہوں۔ جانوروں کی ڈاکٹر سحرش پیرزادہ کا تعلق سندھ کے ضلع نوشہروفیروز سے ہے اور وہ دیہی سندھ کی ان چند لیڈی وٹرنری ڈاکٹروں میں سے ہیں جو فیلڈ میں کام کر رہیں ہیں۔ ڈاکٹر سحرش کا ماننا ہے کہ وہ دیہی سندھ کی واحد فعال لیڈی وٹرنری ڈاکٹر ہیں۔ سحرش کرنا تو ایم بی بی ایس چاہتی تھیں لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ اس شعبے میں اتفاق سے آئیں۔

ہوا یوں کہ میرا میڈیکل میں داخلہ دو نمبر سے رہ گیا، یہی وہ وقت تھا جب پتہ چلا کہ سکرنڈ (ضلع نوابشاہ کا شہر)میں وٹرنری یونیورسٹی میں داخلے کھلے ہیں، میری بہن نے آن لائن فارم جمع کروایا اور یوں میرا داخلہ ہو گیا۔ پاکستان وٹرنری میڈیکل کانسل کے مطابق پاکستان میں پہلی ڈی وی ایم یعنی جانوروں کی ڈاکٹر سنہ 2012 میں زرعی یونیورسٹی سے پاس آٹ ہوئیں تھیں اور انھوں نے باقاعدہ پریکٹس کے بجائے اسی یونیورسٹی میں درس و تدریس کا شعبہ اپنایا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.