پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستانی فلمسازوں کو بھی لینے کے دینے پڑ گئے، وزیراعظم عمران خان کا فلمی ”ڈاکٹرائن“ کیا ہے؟ ملک میں فلمیں کیسی ہوں گی؟ اہم رپورٹ آگئی

کہ وزیر اعظم عمران خان کا ڈاکٹرائن ہم فلم والوں کو کیا سمجھ آئے گا کیونکہ وہ گذشتہ دو سال سے ہمیں ملاقات کا وقت ہی نہیں دے رہے: امجد رشید

پاکستانی فلمسازوں کو بھی لینے کے دینے پڑ گئے، وزیراعظم عمران خان کا فلمی ”ڈاکٹرائن“ کیا ہے؟ ملک میں فلمیں کیسی ہوں گی؟ اہم رپورٹ آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے ان بیانات کی روشنی میں ہم نے اسلامی تاریخ کے ہیروز اور پاکستان کی نشا ثانیہ پر مشتمل وزیر اعظم عمران خان کی اس فلمی ڈاکٹرائن کے حوالے سے فلم انڈسٹری سے منسلک سٹیک ہولڈرز سے بات کی۔ ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ وزیر اعظم کے فلمی ڈاکٹرائن سے کیا مراد لیتے ہیں؟ کیا ایسی فلموں کو قبول عام ملے گا؟ کیا ایسی فلمیں عملی طور پر بنائی جا سکتی ہیں اور کیا یہ منافع بخش ثابت ہوں گی؟

پروڈیوسرز ایسویسی ایشن کے سابق چیئرمین امجد رشید شیخ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا ڈاکٹرائن ہم فلم والوں کو کیا سمجھ آئے گا کیونکہ وہ گذشتہ دو سال سے ہمیں ملاقات کا وقت ہی نہیں دے رہے۔ فلم والوں کو وزیر اعظم کے اقوال زریں اخبارات اور خبر ناموں کے ذریعے سننے کو ملتے ہیں،اب سنی سنائی باتوں سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟ امجد رشید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے فلمی ڈاکٹرائن کی ترویج کے لیے کئی کہنہ مشق مشیر و وزیر ہیں لیکن عملی طور پر تین برسوں میں تاحال حکومتی کلچرل پالیسی کا اعلان ہی نہیں ہو سکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے ذہن میں ترکی ارطغرل ماڈل پر مبنی فلمیں ہیں جنھیں فلم کی اصطلاح میں کاسٹیوم فلم کہا جاتا ہے۔ یہ ہیوی بجٹ فلمیں ہوتی ہیں جنھیں جدید تکنیکی سہولیات اور پیشہ ور ہنرمندوں کی مشترکہ کاوشوں سے بنانا ممکن ہوتا ہے۔ امجد رشید کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے پہلے ترکی کے اشتراک سے فلمیں اور ٹی وی سیریلز بنانے کی بات تھی اب ازبکستان کے ساتھ فلم بنانے کا ارادہ دہرایا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان نے تاشقند میں ازبکستان کے صدر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ملک مشترکہ طور پر ظہیر الدین بابر کی زندگی پر فلم بنائیں گے جس نے برصغیر میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی اور ان کی نسل نے اگلے تین سو برس سے زائد عرصہ تک اس خطے پر حکمرانی کی۔ وزیر اعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مذکورہ فلم کے ذریعے ازبکستان اور پاکستان کی نوجوان نسل کو یہ باور کروایا جا سکے گا کہ کس طرح دونوں قومیں صدیوں کے رشتے میں بندھی ہوئی ہیں۔

عمران خان نے اس ایونٹ کو موقع غنیمت جانتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ مرزا غالب، اقبال اور امام بخاری کی زندگیوں پر بھی فلمیں بنائی جائیں گی۔ ان اعلانات سے چند روز قبل آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام (NASFF) نیشنل امیچور شاٹ فلم فیسٹیول کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فلم والوں کو اصل موضوعات پر فلمیں بنانا چاہییں جو ہمارے اپنے معاشرے کی عکاس ہوں لیکن بدقسمتی سے انھوں نے ہالی وڈ اور بالی وڈ کی نقالی شروع کر دی جس سے فحاشی کو فروغ ملا اور انڈسٹری تباہ ہو گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ لوگ مقامی فلمیں نہیں دیکھتے اور ان کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ ان فلموں میں ان کمرشل ٹرینڈز کو شامل نہیں کیا جاتا جنھیں لوگ پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے نوجوان فلم میکرز کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سوچ سے فلم بنائیں اور فلاپ ہونے کا خوف دل سے نکال دیں کیونکہ میں نے اس ٹیم کو کبھی جیتتے نہیں دیکھا جو شکست کے خوف سے کھیلتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں نے ترکی کے صدر طیب اردوغان سے درخواست کی ان کی مہربانی سے ارطغرل جیسا ڈرامہ سیریل پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کیا جا سکا۔ مذکورہ سیریل اگرچہ ترکی کی ثقافت پر مبنی ہے لیکن اسے یہاں بہت پذیرائی ملی۔ اس سے قبل وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم نے انھیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ پاکستانی ڈرامہ اور فلم کو فحاشی و عریانی سے پاک کیا جاءِ اور ترکی کی طرح پاکستان میں بھی بامقصد، اسلامی ہیروز اور اسلامی تاریخ پر مبنی فلمیں اور ڈرامے بنائے جائیں جس سے پاکستانی قوم کی نشا ثانیہ ابھر کر دنیا کے سامنے آ سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.