پاکستان

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں دو مختلف قانون کو سسٹم کی ناکامی قرار دیدیا

اگر سسٹم صحیح چل رہا ہو تو تجاوزات نہیں ہو سکتیں، جو نالے کنارے آباد ہیں یہ تو ان کی اپنی سیفٹی کے لیے بھی خطرہ ہے

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو مختلف قانون سسٹم کی ناکامی قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کچی آبادی کیس کی سماعت کی، سی ڈی اے کی وکیل نے کہا کہ نالا کورنگ کے کنارے کچھ لوگوں نے غیر قانونی رہائش اختیار کر رکھی ہے، جب بھی انفورسمنٹ والے جاتے ہیں یہ لوگ اسلحہ لے کر آ جاتے ہیں، برسات میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر نالے کے بیڈ پر بیٹھنے والوں کو علاقہ چھوڑنے کا نوٹس دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سسٹم صحیح چل رہا ہو تو تجاوزات نہیں ہو سکتیں، جو نالے کنارے آباد ہیں یہ تو ان کی اپنی سیفٹی کے لیے بھی خطرہ ہے،کل کو خدانخواستہ سیلاب آ گیا تو کون ذمہ دار ہو گا؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کا کام کمزور طبقوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، ای الیون میں نالے پر تعمیرات سے تباہی ہوگئی، قانون کے نفاذ میں ناکامی پر کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں اور کس کے خلاف کارروائی کریں؟ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ دارالحکومت میں قانون کی حکمرانی کیسے ہوگی؟ تمام ادارے صرف مراعات یافتہ طبقے کے لیے کام کر رہے ہیں،عدالت واضح کرچکی ہے کہ صرف بڑے آدمی کی زمین کو ریگولرائزنہ کریں،کوئی ایکشن لینا ہے تو کسی امتیازی سلوک کے بغیرلیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.