پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پنجاب بیورو کریسی میں ایک مرتبہ پھر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ، پنجاب حکومت نے تین سال مکمل ہونے تک کتنی مرتبہ بیورو کریسی میں تبدیلیاں کیں؟ بڑی رپورٹ سامنے آگئی

گذشتہ تین سالوں میں پنجاب میں چار سیکرٹری داخلہ، چھ آئی جی پولیس، پانچ پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم تبدیل کئے جا چکے ہیں

پنجاب بیورو کریسی میں ایک مرتبہ پھر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ، پنجاب حکومت نے تین سال مکمل ہونے تک کتنی مرتبہ بیورو کریسی میں تبدیلیاں کیں؟ بڑی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں پنجاب کے انتظامی امور سے میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ڈپٹی کمشنر لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ، سیکرٹری بہبود آبادی، لیبر سیکرٹری اور سیکرٹری پرائمری ہیلتھ سمیت متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔ گذشتہ تین سالوں میں پنجاب میں چار سیکرٹری داخلہ، چھ آئی جی پولیس، پانچ پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ اسی عرصے میں آٹھ سیکرٹری آبپاشی، تین انفارمیشن سیکرٹری، گیارہ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، چھ سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر تبدیل کر کے ترقی کرتے پنجاب کو ریورس گئیر لگایا گیا۔ کسی بھی صوبے کی بیوروکریسی کے اہم ترین عہدیدار چیف سیکرٹری کو پنجاب میں چار مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ صوبے میں بدانتظامی کا طوفان برپا ہے۔ اناڑی حکمرانوں کی ترجیح گڈ گورننس کے بجائے سیاسی انتقام ہے کیا ان تبدیلیوں سے تین سالوں میں گورننس کے بحران پر قابو پا لیا گیا؟۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے انتظامی معاملات سے تاریخی کھلواڑ کیا جا رہا ہے انہیں گورننس کی الف بے کا نہیں پتا۔ سڑکوں پر تاجر،ڈاکٹرز اور میٹرو بس کے ڈرائیورز سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومتی ایوانوں میں کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ بدانتظام اور نا اہل حکومت نے الٹا ڈاکٹرز پر بہیمانہ تشدد کیا گیا اور احتجاج کا جائز حق استعمال کرنے والوں پر کیمیکل اسپرے کیا گیا۔ وفاق سے بیٹھ کر پنجاب میں کٹھ پتلی حکومت چلانے کا تجربہ بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے پنجاب اور وفاق کے سلیکٹڈ حکمران پنجاب کے عوام کے مجرم ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.