پاکستانفیچرڈ پوسٹ

آن لائن بلیک میلنگ‘ سائبر کرائم قانون ہونے کے باوجود پاکستانی خواتین کے لیے قانونی چارہ جوئی میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ تہلکہ خیز دعویٰ منظر عام پر آگیا

پاکستان میں بالخصوص خواتین کے لیے ناساز ماحول ہونے اور قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے یہاں حالات زیادہ مشکل ہیں

آن لائن بلیک میلنگ‘ سائبر کرائم قانون ہونے کے باوجود پاکستانی خواتین کے لیے قانونی چارہ جوئی میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ تہلکہ خیز دعویٰ منظر عام پر آگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرضی نام ملیحہ کی طرح ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی کہانی ان سے ملتی جلتی ہے اور وہ بھی اسی طرح ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار ہو چکے ہیں جہاں ان صارفین کے خلاف ان کے ذاتی ڈیٹا جیسے ٹیکسٹ میسجز، تصاویر، ویڈیوز یا ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلومات عام کر دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں اس طرح کے کیسز تیزی سے عام ہو رہے ہیں لیکن پاکستان میں بالخصوص خواتین کے لیے ناساز ماحول ہونے اور قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے یہاں حالات زیادہ مشکل ہیں۔

قانونی سطح پر پی ای سی اے (پیکا)کا ایک قانون 2016 میں منظور کیا گیا تھا۔ یہ قانون سٹاکنگ، بلیک میلنگ، آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہے لیکن آن لائن بدسلوکی کی رپورٹس درج کرانے والی خواتین اور ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے ایف آئی اے کو اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام نہ دینے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی کارکن فریحہ عزیز نے چند ہفتے قبل جنسی ہراس کے حوالے سے ایک ٹوئٹر تھریڈ لکھا تاکہ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک کیس کو اجاگر کیا جاسکے کہ ایف آئی اے اس کیس کی تحقیقات اور عدالتوں میں دستاویزات پیش کرنے میں کس قدر سست اور غیر موثر ثابت ہوئی تھی۔ فریحہ نے بی بی سی اردو کو بتایا: ‘کچھ معاملات میں فائلیں غائب کر دی گئیں۔ کچھ کیسز میں تفتیشی افسر عدالت کی سماعتوں میں پیش نہیں ہوئے یا ایف آئی اے نے وقت پر کیس دائر ہی نہیں کیا۔’ فریحہ نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایجنسی استغاثہ کے سامنے گواہ پیش کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے۔ ‘کچھ معاملات میں متاثرہ فرد کی جانب سے ایف آئی اے کو دیا گیا بیان عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات سے مختلف ہوتا ہے۔’

آج سے پانچ برس قبل جب پیکا کے قانون کی منظوری ہوئی تو اس کے بعد ایف آئی اے نے اس موقف کا اظہار کیا کہ ایجنسی میں عملہ پہلے ہی کم تھا اور خواتین افسران کی کمی تھی جن کے باعث خواتین کی شکایات حل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس ایکٹ کے پاس ہونے کے دو سال بعد بھی حکومت نے اس قانون کے تحت ایف آئی اے کے آپریشن کی وضاحت کرنے کے لیے قواعد جاری نہیں کیے اور یہ کہ شکایت درج ہونے سے لے کر عدالتی کارروائی تک اس قانون کو کس طرح نافذ کیا جائے گا۔

قانون بننے کے دو سال بعد آخر کار 2018 میں یہ قواعد متعارف کرا دیئے گئے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی ونگ شہباز خان نے بی بی سی اردو کو بتایا: ‘چار یا پانچ سال پہلے ہمارے پاس خواتین اہلکار نہیں تھیں لیکن اب ادارے میں بہت سی خواتین آفیسرز موجود ہیں۔ ان میں خواتین تفتیش کار اور سٹریس کونسلرز بھی شامل ہیں۔’ پیکا کے قواعد کے تحت ایجنسی کا 25 فیصد عملہ خواتین پر مشتمل ہونا چاہیے جن میں سٹریس کونسلرز بھی شامل ہوں جن کی ذمہ داریوں میں شکایت کنندہ اور متاثرین کو مدد اور مشاورت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ ایف آئی اے کے خلاف ایک عام شکایت یہ ہے کہ وہ آن لائن شکایت کرنے کے باوجود شکایت کنندہ یا شواہد آن لائن جمع کرنے والوں کو کو آفس آنے کا کہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.