پاکستان

افغانستان کو ایک بار پھر تنہا چھوڑا گیا تو کیا نقصان ہوگا؟ شاہ محمود قریشی نے بڑے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اب مغرب کو طالبان کی نئی حکومت کو آزمانا چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنائیں: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے بڑے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا کہ اگر پھر افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے، ملک میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان سے غیر ملکی فوجی انخلا کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمہ کے بارے میں پاکستان کے تحفظات کو نظر انداز کر دیا گیا جس کے نتیجے میں انخلا کا عمل ذمہ دارانہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب مغرب کو طالبان کی نئی حکومت کو آزمانا چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔اگر مغرب نے طالبان کیساتھ بات چیت برقرار نہ رکھی تو افغانستان ایک اور خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے اور خطے میں دہشت گردی کی نئی لہر پھیل سکتی ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان کی جانب سے ابتدائی بیانات مثبت اور حوصلہ افزا ہیں۔توقع ہے طالبان کثیر القومی ملک میں اجتماعیت کی حامل حکومت قائم کرنے کیلئے کام کرینگے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کو ایک بار تنہا چھوڑنے کا آپشن انتہائی خطرناک ہوگا،یہ آپشن افغان عوام کو تنہا چھوڑنے کے مترادف ہوگا،اس طرح کی غلطی 90 کی دہائی میں بھی کی گئی۔ عالمی برادری یہ غلطی دوبارہ نہ دہرائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.