پاکستانفیچرڈ پوسٹ

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی موٹر برانچ میں کرپشن عروج پر پہنچ گئی، او پی ایس ڈائریکٹر قمر الحسن اربوں کی جائیداد کا مالک نکلا، کرپٹ افراد کو پکڑنے والے ادارے بھی بے بس

او پی ایس ڈائریکٹر قمر الحسن کے کہنے پر دفتر کا تمام قیمتی سامان ناکارہ بنا کر بغیر نیلامی کے فروخت کر دیا گیا،ناقص سامان کی خریداری میں لاکھوں کی دیہاڑیوں کا انکشاف

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی موٹر برانچ میں کرپشن عروج پر پہنچ گئی، او پی ایس ڈائریکٹر قمر الحسن اربوں کی جائیداد کا مالک نکلا، کرپٹ افراد کو پکڑنے والے ادارے بھی بے بس ہو گئے۔

لاہور(علی افضل سے) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی موٹر برانچ میں او پی ایس ڈائریکٹر قمر الحسن کی سرپرستی میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری، ڈائریکٹر قمر الحسن کے چہتے ماتحتوں نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اس کا فرنٹ کانسٹیبل ندیم بٹ ہے مگر اس کو کیشیئر کا عہدہ دے کر کرپشن کی جا رہی ہے۔ او پی ایس ڈائریکٹر قمر الحسن کے کہنے پر دفتر کا تمام قیمتی سامان کو ناکارہ بنا کر بغیر نیلامی کے فروخت کر دیا گیا اور اس کی جگہ ناقص سامان کی خریداری میں لاکھوں روپے کی دیہاڑیاں لگائی گئی جس کا تمام حصہ قمر الحسن نے خود ہڑپ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان فراڈیوں نے 50 سال پرانے بڑے قیمتی درختوں کو اونے پونے داموں فروخت کر دیا اور آفس میں صاف پانی کے پلانٹ کے نام پر 2 کروڑ سے زیادہ کا فراڈ بھی کیا۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ قمر الحسن نے اپنے ٹاؤٹ بابر ہمایوں جو آپریٹر ہے وہ مختلف آفس میں فون کر کے منتھلیاں مانگتا ہے۔ محکمہ ایکسائز میں دوسرا بڑا فراڈ معاویہ جو قمر الحسن کا پی اے بتایا جاتا ہے جو لوگوں سے بڑی بڑی ڈیل کر کے نیب اور اینٹی کرپشن کے حکم پر معطل گاڑیوں کو آن لائن کرواتا ہے اور اس کے عوض لاکھوں روپے وصول کرتا ہے جبکہ اس نے کروڑوں روپے کے اثاثے بھی بنا لیے ہیں۔ ندیم بشیر بھی اس مافیا کا اہم رکن بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ ریجن سی لاہور میں کانسٹیبل محمد ندیم بٹ کو کیشئیر کے پرکشش عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ جس نے آخری سہہ ماہی میں ملنے والے کروڑوں روپے کے فنڈز مبینہ طورپر خوربرد کر لئے ہیں۔ پرانی کرسیاں، ٹیبل، فرنیچر، ائیرکنڈیشنر، پنکھے اور دیگر سامان نیلامی کے بغیر ہی بیچ دیا۔ جبکہ نئے ائیرکنڈیشنرز کی خریداری کے لئے کوٹیشنز طلب کیں نہ ہی Austerity Committee سے منظوری حاصل کی۔ اسی طرح ٹینڈر یا کوٹیشن کے بغیر ہی نیا فرنیچر خریدا اور دفتر میں ڈویلپمنٹ کا کام بھی کروایا۔جبکہ بجٹ کا بڑا حصہ مبینہ طور پر آپس میں بانٹ لیا۔ علم میں آیا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ میں بجٹ کے استعمال کی ذمہ داری ای ٹی او ایڈمن کے پاس ہوتی ہے۔تاہم مذکورہ کانسٹیبل ندیم بٹ نے بجٹ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ای ٹی او ایڈمن سفیر عباس کو ہوا بھی نہیں لگنے دی۔ جس پر سفیر عباس نے کیشئیر مذکو کو بار بار فنانشل انسپکشن کے لئے کہا لیکن اس نے پکڑائی نہ دی۔نتیجے کے طورپر سفیر عباس نے ندیم بٹ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ندیم بٹ نے آخری سہہ ماہی میں ملنے والے فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر کسی قسم کے قانون و ضابطے کی پروا نہیں کی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کانسٹیبل کیشئیر ندیم بٹ خود کو ڈائیریکٹر موٹر برانچ قمرالحسن کا قریبی ظاہر کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کانسٹیبل ہونے کے باوجود کیشئیر کے عہدے کو ناصرف انجوائے کررہا ہے بلکہ ای ٹی او ایڈمن سفیر عباس سمیت کسی بھی افسر کو خاطر میں بھی نہیں لاتا

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.