پاکستانفیچرڈ پوسٹ

وہیل چیئر پر مصر کی سیر کرنے والی تین پاکستانی خواتین نے سب کو حیران کر دیا، معذور خواتین نے یہ سفر کیوں اور کس مقصد کے لیے کیا؟ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آگئی

معذوری کے باعث زرغونہ بھی تنزیلہ اور افشاں جیسے مسائل کا سامنا رہا تاہم ان کے گھر والوں نے ان کا بہت ساتھ دیا

وہیل چیئر پر مصر کی سیر کرنے والی تین پاکستانی خواتین نے سب کو حیران کر دیا، معذور خواتین نے یہ سفر کیوں اور کس مقصد کے لیے کیا؟ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مصر کا سفر کرنے والی پاکستانی معذور خواتین کا نام تنزیلہ، افشاں اور زرغونہ ہیں۔ تنزیلہ کا تعلق لاہور سے ہے، افشاں پشاور کی ہیں جبکہ زرغونہ کوئٹہ میں رہتی ہیں۔ معذوری نے ان تینوں کو آپس میں بہترین دوست بنا دیا۔ آئیے آپ کو ان تینوں بہادر خواتین سے ملواتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ویل چیئر پر بنا کسی مددگار کے دنیا بھر کی سیاحت کیسے کر رہی ہیں۔

30 سالہ تنزیلہ بچن سے معذور ہیں، وہ کہتی ہیں کہ گھٹنوں سے نیچے میری ٹانگیں ہیں ہی نہیں اور میں نے پوری زندگی وہیل چیئر ہر گزاری ہے لیکن اب تک وہ اسی ویل چیئیر پر دنیا کے 20 ممالک گھوم چکی ہیں۔ اکیلے سفر کرنے کے فیصلے کے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ میں چاہتی تھی ایک قسم کا جھنڈا گاڑ دوں کہ معذور لڑکی کسی کی محتاج نہیں ہوتی، وہ خودمختار ہو سکتی ہے، اپنے فیصلے خود لے سکتی ہے۔ تنزیلہ کہتی ہیں کہ اللہ نے تو انسان کو خودمختار بنایا ہے لیکن ہمارے ملک میں معذور انسان کو دوسروں کا محتاج بنا دیا جاتا ہے اور وہ کسی کی مدد کے بغیر کہیں آ جا نہیں سکتا، ریستورانوں سے لے کر پبلک واش روم تک ایک معذور انسان کے لیے کہیں ایسی سہولیات نہیں کہ وہ خود اکیلا جا سکے۔۔۔ اسے واش روم تک مجبورا کسی کو ساتھ لیجانا ہی پڑتا ہے۔۔۔ کوئی پرائیویسی نہیں رہتی اور پرائیویسی نہیں تو آپ کی خوداعتمادی بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے سوچا میں آگے بڑھوں گی تو میری مثال دیکھ کر اور بھی لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ افشاں پشاور میں رہتی ہیں، بچپن میں انھیں پولیو ویکسین نہ کروائے جانے کے سبب 22 سال کی عمر میں ان کے جسم کا 75 فیصد حصہ اپاہج ہو گیا تھا۔ فزیو تھراپی سے ان کی صحت کچھ حد تک بحال ہوئی اور اب وہ کم از کم ویل چئیر پر بیٹھ سکتی ہیں۔ اکیلے سفر کرنے کے فیصلے کے متعلق وہ کہتی ہیں کہ معذور عورتوں کو اکثر ترس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ کہیں نہیں جا سکتیں، میں نے سوچھا کیوں نہ دنیا کو دکھائیں کہ اگر حوصلہ ہے تو کچھ ناممکن نہیں اور معذور خواتین کیسے دوسرے ملکوں کا سفر کر سکتی ہیں اور کن گائیڈ لائنز پر عمل کر سکتی ہیں۔ افشاں بتاتی ہیں کہ ہم دیکھتے تھے کہ پاکستان سے لڑکیاں باہر سیر کو جا رہی ہیں لیکن معذور افراد کا کہیں ذکر نہیں تھا، کہ ان کے لیے کیا سہولیات ہیں، وہ کیسے باہر کا سفر کر سکتی ہیں، دوسرے ملکوں میں معذور افراد کے لیے وہی حالات ہیں جو پاکستان میں ہیں یا وہاں بہتر سہولیات ہیں۔ انھوں نے مائیکروبیالوجی میں بی ایس آنزر کر رکھا ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر معذور افراد کے لیے بنائے جانے والے کئی منصوبوں کا حصہ ہیں۔ مختلف اداروں میں معذور خواتین کی شرکت کو یقینی بنانا ان کے کام کا حصہ ہے۔

پٹھان گھرانے سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ زرغونہ سات ماہ کی تھیں جب انھیں پولیو کا اٹیک ہوا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئیں پوری زندگی میں محسوس نہیں کر پائی کہ چلنا پھرنا کیسا ہوتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس سے پہلے میں اکیلے کوئٹہ سے اسلام آباد یا کراچی تک بھی نہیں گئی اور میرے ساتھ کوئی نہ کوئی اٹینڈنٹ ہوتا ہے۔حتی کہ کوئٹہ میں بھی کہیں جاں تو کسی کو ساتھ لے کر جانا پڑتا ہے۔ یہ ان کا پہلا سفر تو نہیں تو مگر اکیلے پہلا سیاحتی دورہ ضرور ہے۔ اس سے پہلے وہ گروپس کے ساتھ مختلف کاموں کے سلسلے میں تین ممالک کا دورہ کر چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تنزیلہ اور افشاں کو دیکھ کر میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے بھی اکیلے سفر کی ہمت کی کہ اگر یہ دونوں اکیلے سفر کر سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں۔ انھوں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز اور ایل ایل بی کر رکھا ہے اور معذور افراد کے لیے کام کرنے والی سوشل ایکٹویسٹ ہیں اور اپنی آرگنائزیشن بھی چلاتی ہیں۔ معذوری کے باعث انھیں بھی تنزیلہ اور افشاں جیسے مسائل کا سامنا رہا تاہم ان کے گھر والوں نے ان کا بہت ساتھ دیا اگر وہ سپورٹ نہ کرتے تو آج میں وہاں نہ ہوتی جہاں ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.