پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عطاء اللہ مینگل کون تھے؟ انہوں نے سرداری نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے کونسی جدوجہد کی اور ان کو کیا نقصان اٹھانا پڑا؟ ماضی کے پنوں سے تہلکہ مچا دینے والی خبر آگئی

عطاء اللہ مینگل کو سردار بنائے جانے کے بعد شاہزئی مینگل سرداروں کے قلات ریاست اور نواب آف جھالاواں سے تعلقات خوشگوار نہیں رہے

عطاء اللہ مینگل کون تھے؟ انہوں نے سرداری نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے کونسی جدوجہد کی اور ان کو کیا نقصان اٹھانا پڑا؟ ماضی کے پنوں سے تہلکہ مچا دینے والی خبر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق سردار عطااللہ مینگل کی پیدائش خضدار کے علاقے وڈھ میں سردار رسول بخش مینگل کے گھر میں ہوئی۔ ان کا تعلق شاہزئی مینگل قبیلے سے تھا۔ والد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا تاہم ان کا جھکا قلات ریاست کے بجائے جام آف لسبیلہ کی طرف تھا۔ چیف آف جھالاواں اور قلات ریاست سے اختلاف کی وجہ سے انھیں خضدار سے بے دخل کیا گیا اور انھوں نے بیلہ میں رہائش اختیار کی۔ سردار عطااللہ مینگل نے ابتدائی تعلیم مقامی طور پر جبکہ مزید تعلیم اسلامیہ کالج کراچی سے حاصل کی۔ وہ چھوٹی عمر میں اپنے شاہزئی مینگل قبیلے کے سردار بنے تھے۔

مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ میر غوث بخش خان بزنجو نے انھیں بتایا تھا کہ انھوں نے خان آف قلات کو سفارش کی تھی کہ یہ ایک بڑا قبیلہ ہے، اس کی سرداری بحال کی جائے جس کے بعد عطااللہ مینگل کو سردار بنایا گیا تھا۔ شاہزئی مینگل سرداروں کے قلات ریاست اور نواب آف جھالاواں سے تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔ اختر علی خان بلوچ بلوچستان کی نامور شخصیات میں خان آف قلات امیر احمد یار خان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے انھیں بتایا تھا کہ آج بھی وہ منظر نہیں بھولا جب کمسن عطااللہ کے سر پر سرداری کی پگڑی باندھی تھی میں نے مینگلوں کو اس کی سرداری پر کتنے جتنوں کے بعد راضی کیا تھا۔

راقم کو میر آغا میر خاجی خان نے بتایا کہ کراچی کے سیکنڈری سکول سے کمسن عطااللہ مینگل کو اٹھا کر قلات میں لایا گیا اور سردارِ قبیلہ کے طور پر ان کی دستار بندی کی گئی۔ یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ کہیں وڈھ پہنچنے پر ان کو سرداری کا ایک بڑا امیدوار قتل نہ کروا دے، چنانچہ خان آف قلات نے انھیں (جو ان کے ہم زلف اور کزن تھے)نوجوان عطااللہ مینگل کے ہمراہ محافظوں کی نفری کے ساتھ وڈھ بھیجا کہ وہ وہاں جا کر مینگل قبیلے کے تمام معتبرین کو خان کے فیصلے اور اقدام سے آگاہ کر دیں اور سردار عطااللہ کی حفاظت کریں۔ بلوچستان کی پہلی اسمبلی اور حکومت کو اس کے قیام کے 10 ماہ میں برطرف کر دیا گیا اور غوث بخش بزنجو، عطااللہ مینگل اور نواب خیربخش مری سمیت نیپ کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان پر حکومت کے خلاف سازش کا مقدمہ چلایا گیا۔ اس کو حیدرآباد سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

رضا زیب کے مطابق حکومت کی برطرفی کے چھ ہفتوں کے بعد حکومتی فورسز اور قافلوں پر حملے شروع ہوگئے۔ 18 مئی 1973 کو ایک اہم حملہ ہوا جب تندوری کے مقام پر دیر سکاٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ عسکریت پسندوں کی خاص طور پر موجودگی ساراواں، جھالاواں اور مری بگٹی ایریا میں تھی۔ جولائی 1974 تک عسکریت پسند کئی سڑکوں کا کنٹرول حاصل کر چکے تھے اور ملک کے دوسرے علاقوں سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔ صحافی اور تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ قلات اور خضدار سے لے کر لسبیلہ تک وسطی بلوچستان میں مینگل حاوی تھے۔ منظر نامے میں اس وقت تبدیلی آئی جب پاکستان ایئر فورس نے تین ستمبر 1974 کو چمالنگ پر حملہ کیا جس میں 125 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے اور 900 کے قریب کو گرفتار کر لیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.