پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان کو موذی وباء کے بعد ایک اور خطرناک بیماری نے گھیر لیا، بچوں میں پھیلنے کا خدشہ، حکومت اور عوام میں پریشانی بڑھنے لگی، تشویشناک خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

پاکستان میں گزشتہ سال 40 ملین بچوں کو خسرہ کی ویکسین نہیں لگائی گئی جبکہ دنیا بھر میں گزشتہ سال 120 ملین بچوں کو خسرہ کی ویکسین نہیں لگائی گئی

پاکستان کو موذی وباء کے بعد ایک اور خطرناک بیماری نے گھیر لیا، بچوں میں پھیلنے کا خدشہ، حکومت اور عوام میں پریشانی بڑھنے لگی، تشویشناک خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق معروف طبی جریدے نیچر میڈیسن نے پاکستان میں بچوں میں خسرہ دوبارہ پھیلنے کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں سال جنوری سے اب تک خسرہ کے8 ہزار سے زائدکیسزرپورٹ ہوئے اور 47 اموات ہوئیں، خسرہ کے 65 فیصدکیسز5 سال سے کم عمربچوں میں رپورٹ ہوئے جن میں سے78 فیصد کی ویکسی نیشن نہیں ہوئی تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں کمی، طبی خدمات کا نہ ہونا، غذائی قلت، ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ، عوامی غفلت اور اب کورونا پاکستان میں خسرہ کے پھیلاؤ اور اموات کی شرح میں اضافے کاسبب بن سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق خسرہ پر قابو پانے کے لیے ویکسی نیشن جاری رکھنا بہت اہم ہے، خسرہ کو ویکسی نیشن کے ذریعے جلد قابو نہیں پایا گیا تو یہ پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم کیلئے تباہی کا سبب بن سکتاہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان 2021ء میں خسرہ کے خلاف ویکسی نیشن نہ کرانے والے سرفہرست پانچ ملکوں میں شامل ہے، پاکستان میں گزشتہ سال 40 ملین بچوں کو خسرہ کی ویکسین نہیں لگائی گئی جب کہ دنیا بھر میں گزشتہ سال 120 ملین بچوں کو خسرہ کی ویکسین نہیں لگائی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وبا کے سبب بچوں میں ویکسی نیشن کا عمل متاثر ہوا اور خسرہ سمیت دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.