پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان اور افغانستان میں سیاسی یا عسکری تبدیلی میں مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کاکیا کردار ہے؟ ایسی تفصیل سامنے آگئی کہ پوری دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی

طالبان نے اب جو عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے تو ایک مرتبہ پھر جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا نام بھی سامنے آیا ہے

پاکستان اور افغانستان میں سیاسی یا عسکری تبدیلی میں مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کاکیا کردار ہے؟ ایسی تفصیل سامنے آگئی کہ پوری دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ کوئی عام مدرسہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی اہم درسگاہ ہے جہاں علمی روایت کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر اور افغانستان پر سوویت حملے کے بعد سے عسکری سطح پر اس مدرسے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور اب اس مدرسے سے فارغ التحصیل متعدد طلبا افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کا حصہ ہیں۔ ذکر ہو رہا ہے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ طالبان کی ایک ایسی یونیورسٹی ہے جہاں سے فارغ ہونے والے طلبا پاکستان اور افغانستان میں مذہبی سیاسی منظر نامے اور عسکری تحریکوں میں متحرک پائے گئے ہیں۔ حالیہ دہائیوں میں پاکستان اور افغانستان میں جب بھی سیاسی یا عسکری طور پر کوئی تبدیلی سامنے آئی ہے تو اس وقت اس مدرسے کا کردار اور اس مدرسے کے سینئر رہنماؤں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جب افغانستان میں طالبان نے جس تیزی سے کابل پر قبضہ کیا اور اب ایک عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے تو ایک مرتبہ پھر جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ان طالبان رہنماؤں میں ملا عبدالطیف منصور شامل ہیں جو زیادہ تر پاکستان میں مقیم رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ملا عبدالطیف منصور نے دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے اور انھیں پانی و بجلی کا قلمدان دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالباقی بھی دارالعلوم حقانیہ میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے وزیر مقرر کیے گئے ہیں جبکہ نجیب اللہ حقانی اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں انھیں مواصلات کا قلمدان دیا گیا ہے۔ اسی طرح مولانا نور محمد ثاقب وزارت حج اور زکو اور عبدالحکیم صحرائی بھی اسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں جنھیں وزارت انصاف کا قلمدان دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم بھی دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین بھی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہے ہیں، محمد نعیم اور سہیل شاہین کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.