پاکستانفیچرڈ پوسٹ

خواتین کو وراثت میں حصہ لینے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا، اگر کوئی خاتون وفات پا جائے تو اس کی اولاد کو اپنے نانا کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ملے گا

خواتین کو وراثت میں حق اپنی زندگی میں ہی لینا ہو گا، اگر خواتین اپنی زندگی میں اپنا حق نہ لیں تو ان کی اولاد دعوی نہیں کر سکتی

خواتین کو وراثت میں حصہ لینے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا، اگر کوئی خاتون وفات پا جائے تو اس کی اولاد کو اپنے نانا کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں خواتین کو وراثت میں حق نہ ملنا ایک بہت بڑا سماجی مسئلہ ہے اور ایسے ہزاروں مقدمات ملک بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جہاں پر خواتین وراثت میں اپنے حصہ لینے کے لیے عدالتوں میں پہنچتی ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کی عدالت عظمی کی طرف سے خواتین کو وراثت میں حصہ لینے سے متعلق ایک درخواست کو مسترد کیے جانے کے بعد نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ اگر کوئی خاتون وفات پا جائے تو اس کی اولاد کو اپنے نانا کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ خواتین کو وراثت میں حق اپنی زندگی میں ہی لینا ہو گا۔ بینچ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر خواتین اپنی زندگی میں اپنا حق نہ لیں تو ان کی اولاد دعوی نہیں کر سکتی۔

سپریم کورٹ کے جج کی طرف سے جس مقدمے پر یہ ریمارکس سامنے آئے کہ عورت کو اپنی زندگی میں ہی اپنی والد کی وارثت میں حصہ لے لینا چاہیے اور اگر کوئی خاتون اپنی زندگی میں ہی حصہ نہ لے تو اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد اپنے نانا کی وراثت میں حصے کا دعوی نہیں کر سکتی، اس کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ سپریم کورٹ میں پشاور کی دو خواتین، جو کہ آپس میں بہنیں تھیں، کے بچوں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایپل دائر کی۔ اس اپیل میں کہا گیا تھا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کی والدہ کو اپنے باپ کی جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں ملا تھا اب وہ اپنے نانا سے اپنی والدہ کا حصہ لینا چاہتے ہیں لیکن عدالت عالیہ نے ان کے نانا کی جائیداد میں حصہ لینے کا دعوی مسترد کر دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.