پاکستان

بچوں کی جسمانی سزاؤں کی ممانعت کا بل کابینہ کمیٹی سے متفقہ طور پر منظور

18 سال سے کم عمر بچے کو تھپڑ مارنا، بچوں کو ہاتھ، بیلٹ، اسٹک، جوتے، لات اورچمچہ مارنا قابل سزا جرم ہوگا: بل کا متن

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بچوں پر جسمانی سزاں کی ممانعت کا بل متفقہ طور پرمنظور کرلیا۔گھر سے باہر بچوں پرتشدد کو قابل سزاجرم قرار دینے کابل بھی منظور ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں بچوں کی جسمانی سزاؤں کی ممانعت کے بل کی منظوری کے بعد بچوں کے بال،کان کھینچنا،کرنٹ، جوتے یا کسی اور آلے سے مارنا قابل سزاجرم ہوگا۔ اس کے علاوہ گھر سے باہر بچوں پرتشدد کو قابل سزاجرم قرار دینے کابل بھی متفقہ طورپرمنظور کیا گیا ہے۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے کو تھپڑ مارنا، بچوں کو ہاتھ، بیلٹ، اسٹک، جوتے، لات اورچمچہ مارنا قابل سزا جرم ہوگا جب کہ ممانعت بل کا اطلاق اسکولوں، مدارس اور یتیم خانوں سمیت دیگر اداروں پر ہوگا۔ بل کے مطابق وزرات تعلیم، اسکولز اور وفاق المدارس کمیٹیاں بنائیں گے جو تین ارکان پر مشتمل ہوگی اور کمیٹی میں ایک خاتون رکن کا ہونا لازم ہوگا، کمیٹی 30 روز میں کسی شکایت پر فیصلہ کریگی جب کہ سزا یافتہ ملزم کو وفاقی محتسب میں اپیل کا حق حاصل ہوگا۔ بل کے متن میں مزیدکہا گیا ہے کہ بچوں پر جسمانی سزا میں ملوث افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت سزا بھی ہوگی جب کہ بچوں کو سزا دینے میں ملوث شخص کو معطل، ملازمت سے فارغ یا تنزلی کی جائیگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.