پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان میں پیٹرول ایک بار پھر مہنگا، عمران حکومت موازنہ صرف تیل کی قیمت کا ہی کیوں کر ہی ہے قوتِ خرید اور مہنگائی کا کیوں نہیں؟اندرونی کہانی سامنے آگئی

حکومت کو یہ موازنہ تمام روزمرہ استعمال کی چیزوں پر کرنا چاہیے تو پھر پتا چلے گا کہ پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی کیا بلند ترین سطح ہے

پاکستان میں پیٹرول ایک بار پھر مہنگا، عمران حکومت موازنہ صرف تیل کی قیمت کا ہی کیوں کر ہی ہے قوتِ خرید اور مہنگائی کا کیوں نہیں؟اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے یکم اکتوبر کو پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 127.30 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 122.04 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 99.31 فی لیٹر ہو چکی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل ہونے والے اضافے اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی مہنگائی پر جہاں عوام اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے وہیں حکومت بار بار یہ دعوی کر رہی ہے کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ابھی بھی دنیا کے بہت سے ممالک اور خاص کر خطے کے ممالک سے کم ہے۔

اس سلسلے میں خاص کر خطے کے دو ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش کے حوالے دیے جا رہے ہیں جہاں حکومت کے ترجمانوں کے دعوؤں کے مطابق پاکستان سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کے بعد وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے ملک میں پیٹرول کی قیمت دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک خاص کر خطے کے ممالک کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن اس کی وجہ عالمی منڈی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ پاکستان میں اضافہ عالمی منڈی کے مقابلے میں کم کیا گیا ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح کو بتدریج کم کر رہی ہے۔ آج بھی اکثر ممالک سے پاکستان میں تیل کی قیمت کم ہے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے برطانیہ میں پاکستان سے بھی زیادہ مہنگائی ہے۔ انھوں نے کہا پاکستان کے مقابلے میں برطانیہ میں قیمتیں 31 فیصد بڑھی ہیں جب کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت یہاں کم ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تسلسل سے ہونے والے اضافے پر بات کرتے ہوئے عارف حبیب سکیورٹیز میں معاشی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق نے بتایا کہ پاکستان میں مہنگے پٹرول و ڈیزل کی سب سے بڑی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں یہ قیمتیں اوسطا 53 ڈالر رہیں۔ ان کے مطابق ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر پاکستان پر بھی پڑرہا ہے تاہم پاکستان میں اس کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بھی خام تیل کی درآمد کو مہنگا بنا رہی ہے۔ انھوں نے کہا حکومت نے ابھی تک خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو پوری طرح عوام تک منتقل نہیں کیا اور سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کر کے وہ زیادہ قیمت نہیں بڑھا رہی۔ اسی طرح پٹرولیم ڈویلمپنٹ لیوی کی مد میں بھی حکومت نے زیادہ پیسے وصول نہیں کیے۔

معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے حکومت کی جانب سے ملک میں پٹرول کی دنیا خاص کر خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم قیمت کے دعوے پر بات کرتے ہوئے اسے ان ممالک میں مہنگائی سے موازنے کو غلط قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا حکومت یہ موازنہ صرف پٹرول کی قیمت پر کیوں کر رہی ہے؟ حکومت کو یہ موازنہ تمام روزمرہ استعمال کی چیزوں پر کرنا چاہیے تو پھر پتا چلے گا کہ پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی کیا بلند ترین سطح ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرے ملک خاص کر خطے کے ملک پاکستان سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ انھوں نے کہا حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس وقت چینی اور گندم کی قیمت انڈیا اور بنگلہ دیش میں کس سطح پر ہے اور ہم اس وقت کس قدر مہنگی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.