پاکستانفیچرڈ پوسٹ

آنے والے چند دنوں کے دوران پاکستان میں مہنگائی کا عالم کیا ہوگا؟ قیمتوں میں کمی ہوگی یا اضافہ؟ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستانی عوام کو لرزہ خیز حقائق بتا دیئے

وزیر خزانہ اس ادارے کے پاس گئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران اور موجودہ مہنگائی کا طوفان آیا ہے: معاشی ماہرین

آنے والے چند دنوں کے دوران پاکستان میں مہنگائی کا عالم کیا ہوگا؟ قیمتوں میں کمی ہوگی یا اضافہ؟ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستانی عوام کو لرزہ خیز حقائق بتا دیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی قدر میں تاریخی اضافہ ہوا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ’پاکستان نے سب سے زیادہ عالمی مالیاتی اداروں کے پیکج لیے۔ پہلے دنیا میں نمبر ون ارجنٹینا تھا لیکن اس وقت پاکستان کا سب سے اوپر نمبر ہے۔ اسی طرح بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر حکومت عوام کو سبسڈی دے سکتی ہے لیکن آئی ایم ایف یہ سبسڈی دینے سے سختی سے منع کرتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی اوپر جاتی ہے اور عام آدمی کی زندگی مشکل ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے حکومت بڑے پیمانے پر نجکاری بھی کرتی ہے: ”صرف گزشتہ تین سالوں میں تقریبا دو کروڑ کے قریب لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی پالیسی کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے اور دوسری طرف نجکاری کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خود کشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ عوام کا معاشی قتل عام ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اس ادارے کے پاس گئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران اور موجودہ مہنگائی کا طوفان آیا ہے۔ واضح رہے کہ مہنگائی کی دہائی صرف معاشی ماہرین یا عوام ہی نہیں دے رہے بلکہ اب حزب اختلاف کی جماعتیں بھی مہنگائی کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑی کرنے جا رہی ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف مہنگائی کے مسئلہ کو لے کر بھرپور احتجاج کیا جائے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے معاشی امور کے ماہر آدم پال کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسی کی وجہ سے ملک میں پاکستانیوں کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ان پالیسیز کی وجہ سے تمام حکومتوں نے کئی چیزوں سے سبسڈی ختم کی۔ پٹرول، زرعی اجناس اور دوسری اشیا پر بھی سبسڈی ختم کی گئی۔ یہ سب کچھ عالمی مالیاتی اداروں کے کہنے پر ہوا۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئیں کیونکہ عالمی مالیاتی ادارہ ہمیشہ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ روپے کی قدر کو کم کرے جس سے معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہر معیشت ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسیز نے پاکستان کے لیے مزید معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو حل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کہتا ہے کہ روپے کی قدر کم کی جائے اور ان کے خیال میں درآمد کو مہنگے کیے جانے سے درآمدی اشیا کی مانگ کم ہو جائے گی لیکن درآمدی اشیا اگر خام مال ہو یا انڈسٹریل مشینری ہو تو اس سے صرف نظر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کے لیے درآمد کردہ اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں جس کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔ یہ مہنگائی انڈسٹریل گڈز اور خام مال کے مہنگا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں صنعت بند ہونا شروع ہو جاتی ہے جیسے کہ 90 کی دہائی میں ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.