پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ذہنی طور پر معذور بچوں کو دولے شاہ کے چوہے کیوں کہا جاتا ہے؟ ان معذور بچوں کو بھیک مانگنے کے دھندے پر لگانے کی وجوہات کیا ہیں؟ کرب ناک معاشرتی حقیقت سامنے آگئی

جن بچوں کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں اورا ن کے دماغ بھی پوری طرح نشوونما نہیں پاتے‘ ایسے بچوں کو دولے شاہ کے چوہے کہا جاتا ہے

ذہنی طور پر معذور بچوں کو دولے شاہ کے چوہے کیوں کہا جاتا ہے؟ ان معذور بچوں کو بھیک مانگنے کے دھندے پر لگانے کی وجوہات کیا ہیں؟ کرب ناک معاشرتی حقیقت سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مائیکروسیفلی (Microcephaly)نامی بیماری کے شکار بچوں کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں اورا ن کے دماغ بھی پوری طرح نشوونما نہیں پاتے۔ ایسے بچوں کو دولے شاہ کے چوہے کہا جاتا ہے۔ یہ ذہنی معذور افراد زیادہ تر شاہ دولہ کے مزار پر رہائش پذیر ہوتے ہیں تاہم کچھ عاقبت نااندیش ان معذور بچوں کو بھیک مانگنے کے دھندے پر لگا دیتے ہیں اور آپ کو یہ سن کر سخت حیرت ہو گی کہ کئی کیسز میں صحت مند پیدا ہونے والے بچوں کو جان بوجھ کر دولے شاہ کے چوہوں کی طرح معذور بنا دیا جاتا ہے تاکہ ان سے بھیک منگوائی جا سکے۔

انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق صحت مند پیدا ہونے والے بچوں کے سر پر یہ لوگ لوہے کے خول چڑھا دیتے ہیں جس سے سر کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور سر کا سائز چھوٹا رہ جانے سے دماغ کی بھی پوری طرح نشوونما نہیں ہو پاتی اور یہ بچے بھی پیدائش طور پر مائیکروسیفلی کے شکار بچوں کی طرح معذورہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس توہم پرست معاشرے میں ایک یہ خیال پایا جاتا ہے کہ دولے شاہ کے چوہوں کو اگر بھیک نہ دیں تو بدبختی آپ کا مقدر بن جاتی ہے۔ اسی توہم پرستی کا پیشہ ور بھکاریوں کے گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور صحت مند پیدا ہونے والے بچوں کے سر پر لوہے کے خول چڑھا کر انہیں دولے شاہ کے چوہے بنا کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔

ان ذہنی معذور بچوں کو دولے شاہ کے چوہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ 17صدی عیسویں کا یہ مسلمان بزرگ زینت کے طور پر بچوں کے سر پر لوہے کے ہیلمٹ چڑھا دیا کرتا تھا۔ شاہ دولہ لاوارث چھوڑ دیئے جانے والے معذور بچوں کو اپنے پاس رکھتا اور ان کی دیکھ بھال کرتا تھا اور یہ بچے اس کے لیے بھیک مانگتے تھے تاکہ اپنا اور اپنے جیسے دیگر بچوں کا خرچ پورا ہو سکے۔ شاہ دولہ اپنے بے اولاد مریدین کو کہا کرتا تھا کہ وہ دولے شاہ کے ان چوہوں کی دعا لیں، جس سے ان کے ہاں اولاد پیدا ہو گی۔ شاہ دولہ ایسے بے اولاد جوڑوں کے لیے ایک شرط بھی رکھتا تھا کہ جو پہلا بچہ پیدا ہو گا اسے ماں باپ شاہ دولہ کے پاس چھوڑ جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.