پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستانی خاتون کو ویزا ہوتے ہوئے بھی بیرون ممالک ذلت و رسوائی کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ بیرون ممالک میں موجود قومی سفارتخانوں نے مدد کیوں نہیں کی؟ اہم خبر

ویزا آنے پر میں نے بھی دوسروں کی طرح یہی سوچا کہ مشکل کام ہو گیا ہے اب میں صرف سیر و تفریح کروں گی لیکن میں غلط تھی

پاکستانی خاتون کو ویزا ہوتے ہوئے بھی بیرون ممالک ذلت و رسوائی کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ بیرون ممالک میں موجود قومی سفارتخانوں نے مدد کیوں نہیں کی؟ اہم خبر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی خاتون کو ویزا ہوتے ہوئے بھی بیرون ممالک ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ گیا اور اس ذلت میں اس وقت اضافہ ہوا جب بیرون ممالک موجود پاکستانی سفارتخانوں نے بھی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ اس حوالے سے متاثرہ خاتون نے بتایا کہ میں نے سینٹرل امریکہ اور جنوبی امریکہ کے دورے کا منصوبہ بنایا جس کے لیے میں نے مختلف ممالک کے ویزے حاصل کرنے کے لیے کئی ہفتے لگا کر اپنے دستاویزات مکمل کیے اور کچھ ہی عرصہ کے بعد میرے مختلف ممالک کے ویزے آ گئے، ویزا آنے پر میں نے بھی دوسروں کی طرح یہی سوچا کہ مشکل کام ہو گیا ہے اب میں صرف سیر و تفریح کروں گی لیکن میں غلط تھی۔

میں برازیل پہنچی جہاں مجھے کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، میں نے برازیل میں بہت اچھا وقت گزارا اور وہاں کچھ دن قیام کے بعد میں اپنی اگلی منزل میکسیکو روانہ ہو گئی۔ میرے پاس کئی میکسیکن ویزے تھے لہذا میں نے پانامہ سے ہوتے ہوئے میکسیکو سے برازیل تک کی فلائٹ بک کر لی۔ میکسیکو پہنچتے ہی میں بھی دوسرے مسافروں کی طرح امیگریشن کانٹر پر لگی قطار میں کھڑی ہو گئی لیکن امیگریشن کانٹر پر پہنچنے سے قبل ہی مجھے بظاہر میری جنوبی ایشیائی شکل و صورت کی وجہ سے قطار سے الگ ہونے کی ہدایت کی گئی۔

انہوں نے مجھ سے میرے پاسپورٹ سے متعلق دریافت کیا، جس کے بعد امیگریشن حکام نے آپس میں بات شروع کر دی۔ اسی دوران وہاں موجود تمام مسافر مجھے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے اور مجھے دیکھ کر انہوں نے آپس میں باتیں کرنا شروع کر دیں۔ مجھے پوچھ گچھ کے لیے ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ چونکہ زیادہ پاکستانی میکسیکو کی سیر کو نہیں آتے لہذا پاسپورٹ اور میری دیگر دستاویزات کا جائزہ لینا ان کا حق تھا لیکن جو سلوک میرے ساتھ روا رکھا گیا وہ نہایت برا تھا۔ انہوں نے مجھ سے میری تمام تر معلومات انتہائی تضحیک آمیز انداز میں دریافت کی اور مجھے بتایا کہ میکسیکو سٹی سے تصدیق ہونے تک مجھے انتظار کرنا پڑے گا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ پاکستانی پاسپورٹس پر ریڈ الرٹ ہے۔ ان کو زیادہ انگریزی نہیں آتی تھی لہذا میں جب بھی ان سے کوئی سوال کرتی وہ آگے سے ہنستے اور میرا مذاق اڑاتے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.