پاکستان

پنجاب :ڈپٹی اسپیکرسے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ کالعدم

فیصلےمیں کہا گیا ہےکہ اسپیکرماورائےآئین اقدام کرے گا توآئینی دائرہ اختیارمیں عدالت اس پرنظرثانی کرسکتی ہے

لاہورہائیکورٹ کےتفصیلی فیصلےمیں کہا گیا ہےکہ اسپیکرماورائےآئین اقدام کرے گا توآئینی دائرہ اختیارمیں عدالت اس پرنظرثانی کرسکتی ہے، آئین اسپیکرکی کسی ایسی رولنگ کو تحفظ نہیں دیتا جواختیارات کا ناجائزاستعمال کرکےدی گئی ہو،سپریم کورٹ نےبھی قومی اسمبلی کےڈپٹی اسپیکرکےحالیہ اختیارات سےتجاوزکرنےکےاقدام کوکالعدم کیا ہے۔ تفصلی فیصلےمیں لکھا گیا ہےکہ پرویز الٰہی کےوزارت اعلیٰ کے امیدوارہونےسےوہ اسپیکرکےاختیارات استعمال نہیں کرسکتےتھے، 6 اپریل تک اجلاس ملتوی کرنا پھرمقصد حاصل کیےبغیراجلاس 16 اپریل تک ملتوی کرنا آئینی خلاف ورزی تھا۔

فیصلےمیں یہ بھی کہا گیا ہےکہ وزارت اعلیٰ کےانتخاب تک ڈپٹی اسپیکرکےخلاف عدم اعتماد کی تحریک زیر التواء رہےگی،اسپیکرکے وزارت اعلیٰ کے امیدوار کی صورت میں ڈپٹی اسپیکر کو تفویض اختیارات میں کمی نہیں کی جا سکتی۔ لاہور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلے میں کہنا ہے کہ اراکین اسمبلی کی مبینہ توڑ پھوڑ معمولی نوعیت کی تھی، چند کرسیاں اور میز ٹوٹیں جو 3 سے 4 دن میں مرمت ہو سکتی تھیں، سیکرٹری اسمبلی نے 3 اپریل سے لیکر درخواست دائر ہونے تک مرمت نہیں کروائی، سیکرٹری اسمبلی کا اپنا کردار ادا نہ کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکرسے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کو 16 اپریل کو پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا انتخاب کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی، مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.