پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ہمارے ملک کے نوجوان اپنے سیاسی رہنماؤں اور قائدین کو دیوتا؟ مفتی منیب الرحمن نے ایسی سنگین غلطی کی نشاندہی کر دی کہ ملک بھر میں ایک نیا ہنگامہ برپا ہوگیا

نوجوان اپنے سیاسی قائد ین کو معاذ اللہ! دیوتا کا درجہ دینے لگ گئیہیں، یہ دینی اور اخلاقی اعتبار سے انتہائی افسوسناک ہے

ہمارے ملک کے نوجوان اپنے سیاسی رہنماؤں اور قائدین کو دیوتا؟ مفتی منیب الرحمن نے ایسی سنگین غلطی کی نشاندہی کر دی کہ ملک بھر میں ایک نیا ہنگامہ برپا ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ممتاز عالم دین مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے مروت اور باہمی احترام کی دینی، سیاسی و معاشرتی اقدار معدوم ہوتی جارہی ہیں اور نوجوان اپنے سیاسی قائد ین کو معاذ اللہ! دیوتا کا درجہ دینے لگ گئے ہیں، یہ دینی اور اخلاقی اعتبار سے انتہائی افسوسناک ہے۔ پاکستان کی سیاست کے عناصرِ ترکیبی دوسروں سے نفرت، تحقیر و تذلیل اور اپنے من پسند قائدین کی عصبیتِ جاہلیہ کے طرز پر پرستش کی حد تک متعصبانہ وابستگی بن گئے ہیں۔ اس شدید عصبیت نے صحیح اور غلط، حق اور باطل، سچ اور جھوٹ کی تمیز کو مٹادیا ہے۔ نوجوان نسل کو اخلاقی پستی میں گرادیا ہے۔ ہمارے سیاسی اثاثے میں نوابزادہ نصر اللہ جیسا کوئی بزرگ سیاستدان بھی نہیں ہے جو سب کو ایک جگہ بٹھا سکے۔ اندیشہ ہے کہ یہ تفریق اور افتراق قوم کو ٹکڑوں میں بانٹ دے گا۔ قریہ قریہ، گلی گلی عام لوگوں اور خاندانوں میں نفرتیں پیدا ہوں گی اور پھر ان منتشر ٹکڑوں کو جمع کرکے ایک جسدِ قومی و ملی کی تشکیل انتہائی دشوار ہوجائے گی۔

مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین بزرگ سیاست دان ہیں، انھیں چاہیے کہ مسئلے کا حصہ بننے کے بجائے اس کے حل کا حصہ بنیں۔ غیر متنازع اور سب کے لیے قابلِ قبول علما، دانشوروں، صحافیوں، وکلا اور سیاستدانوں کو جمع کر کے ایک مشترکہ اپیل جاری کریں اور ایک ضابطہ اخلاق ترتیب دیں۔ کیونکہ دستورِ پاکستان کو بھی متنازع بنایا جارہا ہے اور ہر گروہ اس کی دفعات کی من پسند تعبیر و تشریح کررہا ہے اور اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ پارلیمنٹ کا چلنا بھی دشوار ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.