پاکستان

میرے دور میں مودی کی جرأت نہیں تھی کہ ہماری فوج کے خلاف بات کرتا، عمران خان کا دعویٰ

میں نے کہا تھا اقتدار سے نکلوں گا تو زیادہ خطرناک ہوں گا، ادھر تو میں بند تھا سارا دن آفس میں رہ کر وزن بھی بڑھ گیا

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے دور میں نریندرا مودی کی جرأت نہیں تھی کہ ہماری فوج کے خلاف بات کرتا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا اقتدار سے نکلوں گا تو زیادہ خطرناک ہوں گا، ادھر تو میں بند تھا سارا دن آفس میں رہ کر وزن بھی بڑھ گیا، انتظار میں تھا کہ عوام میں واپس جاں، سارے مل کر بھی تحریک انصاف کے مقابلے میں مینار پاکستان پر چھوٹا سا بھی جلسہ نہ کرسکے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈس انفو لیب نے پاکستانی فوج اور مجھے نشانہ بنایا، ڈونلڈ لو امریکی انڈرسیکرٹری ہمارے سفیر کو بلاکر تکبر میں حکم دیتا ہے کہ عمران خان کو عدم اعتماد میں نہ ہٹایا تو پاکستان پر مشکل وقت آئیگا، ڈونلڈ لو کہتا ہے کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا تو سب معاف کردیا جائیگا، پھر ساری سازش ہوتی ہے یہاں کے میر جعفر اور میرصادق اس میں شرکت کرتے ہیں، 22 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو سازش کے تحت نکالا جاتا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ تیس سال سے جو بڑے ڈاکو اس ملک کو لوٹ رہے تھے ان کو مسلط کیا جاتا ہے، اس سب میں اللہ کرم کرتا ہے اور قوم کو بیدار کردیتا ہے، خودداری جگا دیتا ہے، ہماری خودداری کو کرپٹ لیڈروں نے ختم کردیا تھا، 26 سال سے قوم کی خودداری کو جگانے کی کوشش کررہا تھا، آج پاکستان کو ایک قوم بنتے دیکھ رہا ہوں یہ اللہ کا بڑا کرم ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور اس کی بیٹی فوج کو برا بھلا بول رہی ہے، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، میرا نام ای سی ایل میں ڈالو، تم شہبازشریف کہہ رہے ہو کہ عمران خان فوج کے خلاف بات کررہا ہے؟ نوازشریف بھارت گیا تو حریت رہنماؤں سے ملاقات نہیں کی، میرے دور میں نریندر مودی کی جرات نہیں تھی کہ ہماری فوج کے خلاف بات کرتا، کبھی نوازشریف اور شہبازشریف کے منہ سے کشمیر کی بات سنی؟ میں نے روس کے صدر سے 30 فیصد کم قیمت پر تیل خریدنے کی بات کی، روس 30 فیصد کم قیمت پر تیل اور گندم دینے پر تیار ہوگیا تھا، شہبازشریف کیا تم میں جرأت ہے کہ روس سے گندم تیل خریدنے کی بات کرو؟

ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھارت کو کچھ نہیں کہتا کیونکہ ان کی خارجہ پالیسی آزاد تھی، پیسے کے غلام کبھی قوم کے لیے نہیں کھڑے ہوئے،ایک ذوالفقار علی بھٹو کھڑے ہوئے تو سب اسے کے خلاف ہوئے اور پھانسی دی گئی، ساڑھے تین سال میں سب سے زیادہ شرم تب آئی جب باہر جاکر دوست ممالک سے قرض مانگنا پڑا، میں نے کبھی غیروں سے پیسے نہیں مانگے، انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا تھا اس لیے باہر سے پیسے مانگنے پڑے،اس سے شرمناک بات نہیں کہ ملک کا سربراہ کسی سے قرض مانگے،ماں باپ بھی اس اولاد کی عزت کرتے ہیں جو خود دار ہو،کس نے ہمیں مقروض کیا، 30 سال سے یہ دو خاندان حکومت کررہے ہیں، جب کہتے ہو بھکاری ہیں تو ہمیں بھکاری بنایا کس نے؟ کون اس ملک سے پیسا باہر لے کر گیا ہے؟ یہ ڈاکو ملک سے منی لانڈرنگ کرکے پیسا باہر بھیجتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقتدار میں آگئے اور اب عہدوں کی بندربانٹ ہورہی ہے، میں سمجھتا تھا کہ فضل الرحمان تعلیم کی وزارت سنبھالے گا لیکن اس نے تو وزارت مواصلات سنبھال لی جس میں پیسا ہے، ایان علی کو بھی اسی اکاؤنٹ سے پیسے جارہے تھے جس سے بلاول کو، جو کیسز میں مفرور ہے اس نے تمام کابینہ کو لندن بلا لیا ہے، یہ لندن آپ کے پیسے پر جارہے ہیں یہ اپنے پیسے خرچ نہیں کر رہے،شہبازشریف جو میں میر جعفر کہتا ہوں وہ تم ہو۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف شرم کرو، شریف کرپٹ خاندان کو مشرف نے باہر بھیجا تو معاہدہ کرکے بھیجا، شریف خاندان جھوٹ بولتا رہا کہ معاہدہ کرکے نہیں گئے،نواز شریف کے بچے، جائیداد اور کاروبار سب باہر ہے، شہبازشریف نے آتے ساتھ ہی کہا بھارت سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، شہباز شریف جو تمھیں لے کر آیا اس نے حکم دیا ہے کہ بھارت سے دوستی کرو، وعدہ ہے سندھ کو میں نے آصف زرداری سے آزاد کرانا ہے، آصف زرداری تم اور تمہارا بیٹا تیار ہوجا میں سندھ آرہا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.