پاکستانفیچرڈ پوسٹ

تخت پنجاب کا تنازع، کیا پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس اسمبلی میں ممبران کی تعداد میں کمی آ چکی ہے؟ ہنگامہ خیز رپورٹ سامنے آنے کے بعد سب دنگ رہ گئے

صوبے میں کوئی گورنر نہیں، ڈپٹی سپیکر اور سپیکر کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں نمبر گیم اب تک واضح نہیں

تخت پنجاب کا تنازع، کیا پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس اسمبلی میں ممبران کی تعداد میں کمی آ چکی ہے؟ ہنگامہ خیز رپورٹ سامنے آنے کے بعد سب دنگ رہ گئے ۔

تفصیلات کے مطابق ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاست پر تبصرہ کرنے والے حلقوں کے مطابق آج کل پنجاب کی سیاست ہچکولے کھا رہی ہے۔ ویسے تو منتخب وزیراعلی پاکستان مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز شریف ہیں تاہم ابھی تک وہ اپنی کابینہ تشکیل نہیں دے پائے۔ صوبے میں کوئی گورنر نہیں، ڈپٹی سپیکر اور سپیکر کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں نمبر گیم اب تک واضح نہیں۔ پنجاب اسمبلی کے 22 مئی کو ہونے والے اجلاس کو پہلے 30 مئی کو بلایا گیا تھا لیکن سنیچر کی شب اسمبلی اجلاس کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور اتوار کے روز اجلاس بلایا گیا تاہم اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی اسمبلی جانے والے راستے بند کر دیے گئے۔

ہمیں بھی میڈیا کا کارڈ دیکھا کر ہی اسمبلی تک جانے کی اجازت ملی۔ جب میں اسمبلی پہنچی تو اسمبلی ملازمین، میڈیا کے لوگوں سمیت چند ارکان اسمبلی بھی وہاں گیٹ پر موجود تھے۔ چند گھنٹے گزرنے کے بعد وہاں مسلم لیگ نون اور ان کے اتحادی بھی پہنچ گئے لیکن ان کے لیے بھی دروازہ نہیں کھولا گیا۔ ن لیگ کے ارکان اسمبلی گیٹ کھلوانے کے لیے دروازہ پیٹے ہوئے گلہ کرتے رہے کہ یہ کیا طریقہ ہے، ہمیں اندر کیوں نہیں جانے دیا جا رہا، جس پر وہاں کھڑے صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ حکومت آپ کی ہے تو پھر یہ کون کر رہا ہے۔ نون لیگ کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ چوہدری پرویز الہی کے کہنے پر سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے یہ سب کیا جا رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ نون لیگ کی حکومت ہے اور وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ خیر کچھ دیر بعد اسمبلی کا گیٹ کھول دیا گیا۔ چند منٹ بعد ہی سپیکر چوہدری پرویز الہی اپنے قافلے کے ساتھ پہنچے لیکن ان سمیت پی ٹی آئی کے تمام لوگوں کے چہروں پر ایک الگ ہی قسم کی مسکراہٹ تھی۔

کچھ دیر میں ہی اجلاس کی کارروائی شروع ہونے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اس وقت مسلم لیگ نون اور اتحادی بھی جمع ہو رہے تھے۔ میں بھی اسمبلی کے اندر چلی گئی۔ اندر دیکھا تو پی ٹی آئی اور ان کے اتحادی پہلے ہی حکومتی بینچز پر بیٹھے تھے۔ پی ٹی آئی اور پینل آف چئیر کے رکن وسیم خان نے اسمبلی کی کارروائی فورا شروع کر دی اور پوچھا کہ مسلم لیگ نون کے رکن سمیع اللہ چوہدری کی جانب سے سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی تھی، وہ کہاں ہیں؟ پھر انھوں نے کہا کہ کیونکہ اس درخواست کا موور ہال میں موجود نہیں تو اس لیے کسی کو کوئی اعتراض نہیں، لہذا سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست خارج کی جاتی ہے اور چھ جون تک اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے۔ اسی وقت مسلم لیگ نون کے تمام لوگ ایوان میں داخل ہوئے۔ یہ تمام تر کارروائی تین سے چار منٹ میں کی گئی۔ اس کارروائی کے بعد مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی اور اتحادیوں کے چہرے دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ شاید انھیں یہ سب ہونے کی امید نہیں تھی۔ مسلم لیگ نون کی رکن اسمبلی عظمی بخاری ایوان میں خاصے غصے میں نظر آئیں اور اپنی پارٹی کے لوگوں سے پوچھنے لگیں کہ یہ کیوں ہوا۔۔۔ آخر ہمیں چلا کون رہا ہے؟ آج ہمیں کون لیڈ کر رہا ہے؟ جس پر پارٹی کے دیگر اراکین نے انھیں خاموش کروایا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.