پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کون کون سی لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی گئی اور حکومت نے کن اشیاء پر پابندی ختم کرنے کا یوٹرن لیا؟ سب کچھ پتا چلنے کے بعد ہر کوئی حیران رہ گیا

لگژری آئٹمز، کھانے پینے کی اشیا، بڑی گاڑیاں اور موبائل فون کے علاوہ چند دوسری چیزوں کی امپورٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی

کون کون سی لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی گئی اور حکومت نے کن اشیاء پر پابندی ختم کرنے کا یوٹرن لیا؟ سب کچھ پتا چلنے کے بعد ہر کوئی حیران رہ گیا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے ملک میں درآمد ہونے والی مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی جن میں لگژری آئٹمز، کھانے پینے کی اشیا، بڑی گاڑیاں اور موبائل فون کے علاوہ چند دوسری چیزوں کی امپورٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ پاکستان میں درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی کے حوالے سے ابھی تک ابہام ہے اور حکومت کو ہر دوسرے روز وضاحتیں دینے اور ممنوعہ اشیا میں سے کسی نے کسی ایک پر پابندی سے یوٹرن لینا پڑ رہا ہے۔ ملک میں درآمد ہونے والی مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ معاشی دبا کے باعث نتائج کا اندازہ لگائے بغیر بظاہر جلدی میں لیا گیا اور اب مختلف اشیا اور ان کے خام مال کے حوالے سے عوام اور صنعت کاروں کے خدشات سامنے آنے کے بعد حکومت کو روزانہ اس لسٹ کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑ رہا ہے۔ دو روز قبل حکومت نے شہریوں کے خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے جانوروں کی خوارک اور انرجی سیورز کی امپورٹ پر لگائی گئی پابندی واپس لینے کے بعد آج صبح وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو وضاحت دینا پڑی کہ حکومت نے سینیٹری پیڈز، ڈائپرز یا ان کے بننے میں استعمال ہونے والے خام مال پر پابندی عائد نہیں کی ہے اور یہ پابندیاں صرف کچھ لگژری یا غیر ضروری سامان پر لگائی گئی ہیں۔ اپی ٹویٹ میں انھوں نے وضاحت کی کہ کسی صنعتی خام مال پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔ پابندی صرف کچھ لگژری یا غیر ضروری اشیا پر ہے۔ اور یقینی طور پر سینیٹری پیڈز یا ڈائپرز (یا ان کے خام مال)پر کوئی پابندی نہیں ہے، جو ظاہر ہے کہ ضروری اشیا ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ کچھ دن پہلے کسٹم حکام کی جانب سے کراچی ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے سامان سے اشیا کی ضبطی کے بعد مفتاح اسماعیل کو وضاحت دینا پڑی تھی کہ حکومت کی جانب سے کچھ غیر ضروری چیزوں کی درآمد پر پابندی سے ان چیزوں کی پاکستان میں سمگلنگ بڑھ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں عام شہریوں کو پریشان نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.