پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ و سابق وزیراعظم عمران خان کو کس نے غصہ دلایا کہ وہ ملک کے تین ٹکڑے ہونے کی پیش گوئی کرنے لگے ؟ سنسنی خیز

پتا نہیں وہ کون لوگ ہیں جو خان صاحب کے اس بیان پر طیش میں ہیں کہ فوج تباہ ہو گی، پھر ہم سے ہمارے جوہری ہتھیار چھینے جائیں گے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ و سابق وزیراعظم عمران خان کو کس نے غصہ دلایا کہ وہ ملک کے تین ٹکڑے ہونے کی پیش گوئی کرنے لگے ؟ سنسنی خیز خبر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق پتا نہیں عمران خان صاحب کس کو ڈرا رہے ہیں کہ پاکستان تین ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ پتا نہیں وہ کون لوگ ہیں جو خان صاحب کے اس بیان پر طیش میں ہیں کہ فوج تباہ ہو گی، پھر ہم سے ہمارے جوہری ہتھیار چھینے جائیں گے اور اس کے بعد ملک کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔ یہ شاید سب وہی لوگ ہیں جو بچپن سے ہمیں بتاتے آئے ہیں کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا، فوج اس کی سلامتی کی ضامن ہے، اگر اسلام نہ ہوتا، اگر فوج نہ ہوتی تو اس ملک کے ٹکڑے ہو جاتے۔

یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اسلام بھی قائم و دائم ہے، فوج کا سایہ بھی ہمارے سر پر ہمیشہ سے سلامت ہے، لیکن اس کے باوجود ملک کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں، بلکہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا بڑا حصہ اپنے چھوٹے بھائی سے آزادی حاصل کر کے نسبتا سکون کی زندگی گزار رہا ہے لیکن ہم نے اپنی تاریخ کی کتابوں سے بنگلہ دیش کا نام و نشان تک مٹا دیا ہے۔ ہائی سکول کے ذہین طلبہ سے پوچھو تو وہ بھی حیران ہو کر پوچھتے ہیں واقعی بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا؟ اگر کوئی پوچھ بیٹھے تو ہم سازش سازش کا رونا رو کر اسے چپ کروا دیتے ہیں اگر ہم نے ٹکڑے ہونے والی بات کو ماننا ہی نہیں تو تین کیا تین سو ٹکڑے بھی ہو جائیں تو ہمارے خوابوں کے پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی۔ ویسے بھی جو اشرافیہ ریاست کے نام پر دنیا سے ملے ٹکڑوں پر جینے کی عادی ہے اسے ملک کے ٹکڑے ہونے کی کیا فکر ہو گی۔ اگر ہوتی تو اسے نظر آتا کہ وطن کے تین سے زیادہ ٹکڑے تو پہلے سے موجود ہیں۔ بلوچستان میں کئی سفید پوش لوگ ایسے ہیں جو اپنی ساری عمر کی جمع پونجی اکٹھی کر کے اپنی اولاد کو پڑھنے کے لیے پاکستان کے دوسرے حصوں میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں۔ بہتر تعلیم ایک ثانوی مقصد ہے، وہ اپنے بچوں کو لاہور، کراچی و اسلام آباد اس لیے بھیجتے ہیں کہ انھیں یقین سا ہو چلا ہے کہ اگر ان کا بچہ ہائی سکول کے بعد بلوچستان کے کسی تعلیمی ادارے میں پڑھا، تو چاہے وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی، ایک دن غائب کر دیا جائے گا۔ پھر وہ باقی عمر اس کی مسخ شدہ لاش کا انتظار کریں گے اور مسنگ پرسنز کے کیمپ میں ان کی تصویریں اٹھا کر بیٹھیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.