پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان میں مہنگائی کب تک جاری رہے گی؟ کیا اب بھی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے امکانات ہیں؟ ہوش اڑا دینے والے اعدادو شمار سامنے آنے پر سب دنگ رہ گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا براہِ راست اثر مہنگائی پر پڑتا ہے اور کچھ روز میں کسی بھی دکان پر پہنچ کر آپ کو اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی خبر ملے گی

پاکستان میں مہنگائی کب تک جاری رہے گی؟ کیا اب بھی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے امکانات ہیں؟ ہوش اڑا دینے والے اعدادو شمار سامنے آنے پر سب دنگ رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی حکومت کی جانب سے ایک ہفتے میں دو مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یقینا اکثر گھروں میں یہ بات موضوعِ بحث ہو گی کہ اب کیا ہو گا، خرچہ کیسے چلے گا اور کیا حالات بدتر ہونے جا رہے ہیں؟ انتہائی تکنیکی وجوہات نہ صحیح لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا براہِ راست اثر مہنگائی پر پڑتا ہے اور کچھ روز میں کسی بھی دکان پر پہنچ کر آپ کو روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی خبر ملے گی اور آپ کا دل کھٹا ہو گا۔

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کہہ چکے ہیں کہ حکومت اب بھی پیٹرول پر آٹھ روپے اور ڈیزل پر 23 روپے کی سبسڈی دے رہی ہے اور اس حوالے سے 10 جون کو دیے جانے والے بجٹ میں بہت سے معاملات سمٹ جائیں گے تاہم مسئلہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کا نہیں ہے بلکہ نیپرا کی جانب سے جمعرات کو جولائی کے مہینے سے 7.91 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس ممکنہ اضافے کا اثر عام عوام کی جیب پر براہِ راست تو پڑے گا ہی، لیکن ساتھ اس کے باعث مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا۔

اس حوالے سے یقینا ہماری طرح آپ کے ذہن میں بھی متعدد سوالات موجود ہوں گے۔ ہم نے ایسے ہی چند سوالوں کے جواب معاشی ماہر اور سابق چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ ہارون شریف سے حاصل کیے ہیں تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کی وضاحت ہو سکے۔ ہارون شریف نے بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تین رجحانات کی جانب توجہ دلوائی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اضافہ سب کے لیے ہے، امیر غریب اور متوسط طبقے کے افراد سب ہی اس سے متاثر ہوں گے اس لیے اس میں ٹارگٹڈ زاویہ لانا بہت ضروری ہے۔ دوسرا یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ دوسری جانب بجلی کی قیمت میں اضافے کے باعث کاروبار پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، ان دونوں کی وجہ سے خدشہ یہ ہے کہ جو لوگ اس وقت مارجن پر ہیں وہ غربت کی سطح سے نیچے گر جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.