پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو بجٹ بنانے اور معیشت چلانے میں کون کون سی مشکلات کا سامنا ہے؟ ہوش اڑا دینے والی رپورٹ سامنے آنے پر سب دنگ رہ گئے

حکومت کو بجٹ بناتے وقت سب سے بڑا چیلنج آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا خسارہ جو اس سال کے آخر تک 5ہزار ارب کی حد تک جانیکا امکان ہے

پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو بجٹ بنانے اور معیشت چلانے میں کون کون سی مشکلات کا سامنا ہے؟ ہوش اڑا دینے والی رپورٹ سامنے آنے پر سب دنگ رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کو بجٹ بناتے وقت سب سے بڑا چیلنج آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا خسارہ ہے جو اس مالی سال کے آخر تک 5000 ارب روپے کی حد تک جانے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حکومت کو خسارے کو کم کرنے کے ساتھ ملک کی معاشی شرح نمو کو بھی بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہیں تاکہ ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکیں اور اس کے ساتھ پیداواری عمل کے ذریعے عام آدمی کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جا سکے۔ ماہرِ معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ جو مالی خسارہ سامنے آ رہا ہے اس کے بعد جو پیسے باقی بچتے ہیں اس سے قرضے کی ادائیگی اور قسطوں کی ادائیگی کے بعد کچھ بھی نہیں بچتا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 7000 ارب روپے تک کے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور اس کا مطلب ہے 2000 ارب اور اس کچھ زائد پیسے باقی بچتے ہیں۔ دوسری جانب قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی 300 ارب کرنی پڑتی ہے۔ اب اس کے بعد ترقیاتی بجٹ، دفاعی اخراجات اور سروس کا انفراسٹرکچر چلانے کے لیے درکار رقم موجود نہیں ہو گی جس کے لیے حکومت کو ایک بار پھر بیرونی اور مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والے قرضوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.