پاکستانفیچرڈ پوسٹ

شہباز شریف خاموشی کی زبان پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے بہتر قہقہقے ہیں یا … ؟ خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی نے حقیقت کھول کر سب کے سامنے رکھ دی

ایسا نہیں کہ کوئی چپ رہے اور آواز نہ آئے اور خاموشی بھی وہ جو معنی رکھتی ہو' ایسا بھی نہیں کہ کوئی غیر جانبدار رہے اور پتا بھی نہ چلے

شہباز شریف خاموشی کی زبان پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے بہتر قہقہقے ہیں یا … ؟ خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی نے حقیقت کھول کر سب کے سامنے رکھ دی۔

تفصیلات کے مطابق سینئر خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ کوئی چپ رہے اور آواز نہ آئے اور خاموشی بھی وہ جو معنی رکھتی ہو۔ ایسا بھی نہیں کہ کوئی غیر جانبدار رہے اور پتا بھی نہ چلے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔ بہر حال اب غیر جانبداری کے دن ہیں اور خاموشی باقاعدہ اسلوب بن چکی ہے۔ اشاروں کی زبان رائج ہے اور نگاہوں ہی نگاہوں میں معاملہ طے ہو جاتا ہے۔۔۔ اصل بات تو یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب خاموشی کی زبان عمران خان سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اب اگر کوئی اعلانیہ غیر جانبدار ہو اور سرکاری افسران کی تقرری تعیناتی میں چھان بین کا حکم نامہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے خاموشی سے وزیراعظم جاری کر دے تو تازہ تازہ سویلین بالادستی پر یقین رکھنے والے ادارے کا کیا قصور۔۔ ہاں البتہ "ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگانے والوں کو جنجھوڑ کر ہلایا ضرور جا سکتا ہے کہ حضور اب آپ کی حکومت ہے اور ووٹ کی عزت بھی اب آپ ہی کے ہاتھ ہے۔

صرف ایک ماہ اور ستائیس دن کی حکومت خاموشی کی زبان اس قدر سمجھتی ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کے اختیارات آئی ایس آئی کو بخش دیتی ہے اور کیوں نہ ہو آئی ایس آئی بھی بظاہر ایک سویلین ادارہ ہے جو براہ راست وزیراعظم کو جوابدہ ہے۔۔۔ مانیں یا نہ مانیں سویلین بالادستی کا پورا مزہ اگر کسی نے ماضی قریب میں لیا ہے تو ان کا نام عمران خان ہے۔ اب اگر انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جناب شہباز شریف صاحب نے اپنے اختیارات کا جائز فائدہ اٹھا لیا ہے تو رضا ربانی، فرحت اللہ بابر اور پرویز رشید جیسے اولڈ فیشنڈ بزرگواروں کو مسئلہ کیوں ہے۔

کل تک پارلیمان کی بالادستی پر لمبی تقریریں کرنے والے بلاول بھٹو اور مریم نواز شریف ایسے درگزر کر رہے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، کریں بھی کیا کہ نئی نئی دوستی کے دن ہیں اور ایک ووٹ پر کھڑی حکومت ایک صفحہ ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔ وہی جس کے مزے گزشتہ حکومت نے خوب کیے تھے۔ ویسے عجب سویلین بالادستی کے غضب دن ہیں۔ وہ سیاست دان جو خود کو جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کی پیداوار کہتے تھے وہی اپنے باپ ادارے کو کوستے دکھائی دیتے ہیں اور عسکری نرسری میں لگنے والے صحافتی پودے بے نقط سناتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کل تک کنٹرولڈ جمہوریت کے حامی آج اسٹیبلشمنٹ کے ناقد ہیں جبکہ عمرانی صحافتی ٹولہ اپنے ہی سر پرستوں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلاتا دکھائی دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.