پاکستانفیچرڈ پوسٹ

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے انتقال کی خبریں کس نے پھیلائیں ؟ اس سازش کے پیچھے کون کون سے کردار ہیں؟ تمام کہانی کھل کر منظر عام پر آگئی

وہ وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں' وہ اپنی بیماری (ایمیلوئیڈوسس)کی پیچیدگی کی وجہ سے پچھلے تین ہفتوں سے ہسپتال میں داخل ہیں

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے انتقال کی خبریں کس نے پھیلائیں ؟ اس سازش کے پیچھے کون کون سے کردار ہیں؟ تمام کہانی کھل کر منظر عام پر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کی موت کی افواہیں گذشتہ شام سے گردش کر رہی تھیں جن کی تردید کرتے ہوئے پاکستان کے سابق فوجی صدر کے خاندان نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ وہ گذشتہ تین ہفتوں سے دبئی کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں اور ایک پیچیدہ بیماری کی وجہ سے ان کی صحتیابی ممکن نہیں۔ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں 78 سالہ مشرف کے خاندان کا کہنا تھا کہ وہ وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں۔ وہ اپنی بیماری (ایمیلوئیڈوسس)کی پیچیدگی کی وجہ سے پچھلے تین ہفتوں سے ہسپتال میں داخل ہیں۔ اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں جس میں صحتیابی ممکن نہیں اور اعضا ناکارہ ہو رہے ہیں۔ ان کی روزمرہ کی زندگی میں آسانی کے لیے دعا کریں۔

ایمیلوئیڈوسس ایک نایاب اور سنگین بیماری ہے جس میں اعضا اور ٹشوز میں غیر معمولی پروٹینز بننا شروع ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ سے اعضا کی ناکامی کا خطرہ ہوتا ہے۔ 10 جون کی شام قریب چار بجے سے سابق آمر کی موت کی فیک نیوز پاکستان اور انڈیا کے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ کچھ ویب سائٹس نے تو ان خبروں کو تصحیح کے ساتھ اپ ڈیٹ کر دیا ہے مگر چند اکانٹس پر اب بھی اس جعلی اطلاع کو دیکھا جاسکتا ہے۔

قریب ساڑھے چار بجے پاکستانی چینل وقت نیوز نے ٹوئٹر پر یہ پوسٹ شیئر کی کہ پرویز مشرف انتقال کر گئے مگر بعد میں اسے حذف کر دیا گیا۔ ویب سائٹ پر اس خبر کے پیج کو بھی اب وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس جعلی خبر میں لکھا تھا کہ ان کی طبیعت انتہائی ناساز اور مصنوعی سانس دیا جانے لگا تھا۔ مگر اس کے علاوہ کئی انڈین نیوز ویب سائٹس اور مصدقہ ٹوئٹر اکانٹس نے بھی بغیر تصدیق یہ اطلاعات خبر کے طور پر شائع کیں۔ زی نیوز نے لکھا کہ مشرف کی موت کی خبر کئی پاکستانی چینلوں نے رپورٹ کی ہے جبکہ ون انڈیا نامی ویب سائٹ نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے۔ کچھ ویب سائٹس نے وقت نیوز اور دیگر پاکستانی چینلز کے حوالے سے یہ بات لکھی کہ وہ وینٹی لیٹر پر تھے مگر مشرف فیملی کی تردید کے بعد اسے حذف یا اپ ڈیٹ کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.