پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عمران خان کی حکومت آصف علی زرداری کی وجہ سے چل رہی تھی کیونکہ انہوں نے رضا ربانی کی بجائے صادق سنجرانی کو؟ حیران کن حقائق منظر عام پر آ گئے

زرداری صاحب تھے جنہوں نے عمران خان حکومت کو بیساکھیاں فراہم کرنیوالی قوتوں کے ایما پر بلوچستان کی حکومت گرانے میں بنیادی کردار ادا کیا

عمران خان کی حکومت آصف علی زرداری کی وجہ سے چل رہی تھی کیونکہ انہوں نے رضا ربانی کی بجائے صادق سنجرانی کو؟ حیران کن حقائق منظر عام پر آ گئے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب آج اپنے آپ کو اس عمل کا منصوبہ ساز ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کون نہیں جانتا کہ عمران خان کی حکومت زرداری صاحب کی عنایت سے قائم ہوئی اور چل رہی تھی۔ یہی زرداری صاحب تھے جنہوں نے عمران خان کی حکومت کو بیساکھیاں فراہم کرنے والی قوتوں کے ایما پر بلوچستان کی حکومت گرانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

پھر یہی زرداری تھے جنہوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر سینیٹ کے انتخابات میں مل جل کر گیم بنایا اور رضا ربانی کی بجائے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنایا۔ جس ڈیل کے تحت عمران خان کو پورا ملک ملا اسی ڈیل کے تحت زرداری صاحب کو سندھ ملا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جعلی اسمبلیوں میں بیٹھنے کی راہ ہموار کی اور پھر ان کی تقلید میں مسلم لیگ (ن)اور دیگر جماعتیں بھی جعلی اسمبلیوں میں بیٹھنے پر مجبور ہوئیں۔یوں سونامی کی جگہ اتحادی جماعتوں کا اقتدار میں آنے کا سہرا درحقیقت حکومت میں شامل کسی جماعت کے سر نہیں بلکہ خود عمران خان کے سر ہے۔

اب میاں شہباز شریف وزیراعظم بن گئے ہیں ۔ سندھ حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت میں بڑا حصہ پیپلز پارٹی اور پھر جے یو آئی نے لے لیا ہے ۔ ایم کیوایم بھی حصہ دار بن گئی ہے جبکہ اے این پی اور آفتاب شیرپائو کی قومی وطن پارٹی کے سوا باقی سب جماعتوں بلکہ شاہ زین بگٹی جیسے چند افراد کو بھی حصہ مل گیا ہے ۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک قومی حکومت کی بھی تصویر ہے جس میں سندھ اور پنجاب میں گہری جڑیں رکھنے والی قومی جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، سب سے بڑھ کر مذہبی اور قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہیں اور اس تناظر میں اسی حکومت سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ معاشی ، معاشرتی اور سفارتی بحران میں گھرے ہوئے پاکستان کا بیڑا پار کرادے گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیایہ حکومت زیادہ دیر چل پائے گی؟ ۔ میرا جواب نفی میں ہے اور میرے نزدیک اس کی وجہ خود اس حکومت میں شامل جماعتیں بنیں گی ۔ کیونکہ تین بڑی اتحادی جماعتیں اپنی حکومت کو جمہوری انداز میں نہیں چلارہی ہیں ۔ پہلے ذکر کرتے ہیں مسلم لیگ (ن)کے رویے کا ۔بلا شبہ میاں شہباز شریف اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیصلہ سازی کا محور لندن اور اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ہے۔ دو جگہوں سے ہدایت لینے والی حکومت ڈیلیور نہیں کرسکتی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.