پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان میں روز بروز بڑھتا ہوا ویپنگ کلچر، نوجوان نسل ویپ کے بارے میں کیا محسوس کرتی ہے؟ ہوشرباء حقائق سامنے آنے کے بعد سب چونک کر رہ گئے

ای سگریٹ میں عام طور پر نکوٹین ہوتی ہے جو کہ سگریٹ میں نشے کا عنصر ہوتا ہے اور غالبا بار بار شکریہ کہنے والے صاحب کو اسی کیمیکل کی طلب تھی

پاکستان میں روز بروز بڑھتا ہوا ویپنگ کلچر، نوجوان نسل ویپ کے بارے میں کیا محسوس کرتی ہے؟ ہوشرباء حقائق سامنے آنے کے بعد سب چونک کر رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کوائل (coil) ہے؟ جی کا کوائل؟ یہ سوال میرے تو سر کے اوپر سے گزر گیا مگر دکاندار نے ہڑبڑائے ہوئے صارف کو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک چھوٹا سا پرزہ ہاتھ میں تھما دیا۔ ابھی چند ہی لمحے گزریں ہوں گے کہ ایک اونچی آواز سنائی دی او ہو باس بہت شکریہ! بڑی شدت سے اس کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے دائیں جانب دیکھا تو وہی شخص دھوئیں کے بادلوں میں لپٹا کاؤنٹر پر اپنا چہرہ ٹکائے اور دونوں ہاتھ پھیلائے کسی ایسے سرور میں مبتلا تھا کہ اس نے یہ پرواہ کیے بغیر کہ چار اور لوگ بھی دکان میں موجو ہیں او ہو شکریہ کا راگ کچھ دیر جاری رکھا۔ یہ منظر ہے ایک سٹور کا جو اسلام آباد کے ایک پوش علاقے ایف-6 میں واقع ہے، جہاں الیکٹرانک سگریٹ (ای سگریٹ)یا ویپ فروخت ہوتا ہے۔ ای سگریٹ میں عام طور پر نکوٹین ہوتی ہے جو کہ سگریٹ میں نشے کا عنصر ہوتا ہے اور غالبا بار بار شکریہ کہنے والے صاحب کو اسی کیمیکل کی طلب تھی۔ چند سال پہلے تک تو شاید بہت سے نوجوانوں نے ویپ سٹور کا نام تک نہ سنا ہو مگر اب صرف جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہی اس طرز کی کئی دکانیں ہیں۔ یہ ای سگریٹ ہے کیا اور پاکستان میں اس کا رجحان تیزی سے کیوں بڑھ رہا ہے؟ کیا یہ سگریٹ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے؟ ویپنگ سے متعلق ملک میں کیا قوانین ہیں؟ ان تمام سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں نے متعدد ویپ سٹورز کا دورہ کیا اور کئی نوجوانوں سے بات کی جو اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو کا استعمال کرنے والوں کی تعداد 2 کروڑ 39 لاکھ سے زیادہ ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے قائم کردہ ٹوبیکو کنٹرول سیل کے مطابق اس کل تعداد میں سے تقریبا ایک کروڑ 60 لاکھ افراد تمباکو کا استعمال سگریٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ سگریٹ کے پیکٹس پر سنہ 2015 میں ایک قانون کے ذریعے یہ لازم کر دیا گیا کہ پیکٹ پر 90 فیصد جگہ پر خوفناک تصاویر شائع کی جائیں گی جو اسے استعمال کرنے والوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ اور خبردار کر سکیں۔ اس کے برعکس رنگ برنگی پیکنگ، سٹور میں بیٹھنے کے لیے آرام دہ کرسیاں اور اکثر و بیشتر بغیر کسی انتباہ کے فروخت ہوتے ای سگریٹ، زیادہ سے زیادہ لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کر رہے ہیں۔

ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان زیادہ تر تو ملک کے شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے مگر جوں جوں اس کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے ان ای سگریٹس کو اب آپ گروسری سٹورز اور پان سگریٹ کی دکانوں پر بھی فروخت ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ چینی اور پاکستانی ساخت کا بنا ای سگریٹ اب مارکیٹ میں کم سے کم ڈھائی ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور ان اشیا کی آسان دستیابی کا مطلب ہے کہ پہلے صرف ایلیٹ کلاس کو ٹارگٹ کرتے اس ای سگریٹ کی رسائی اب متوسط طبقے تک بھی ممکن ہو گئی ہے۔ راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں ایک ویپ سٹور کے منیجر شاہ رخ جہانگیر نے ای سگریٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں بتایا کہ زیادہ تر کالج جانے والے طلبا ان دکانوں کا رخ کرنے لگے ہیں اور وہ افراد بھی جو سگریٹ چھوڑنے کے لیے ای سگریٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔ آپ سے جو سگریٹ پینے کے بعد بدبو آتی ہے، وہ چلی جاتی ہے اور آپ لوگوں اور گھر والوں کے سامنے بھی شرمندہ نہیں ہوتے۔ 22 سال کے طالبعلم احمد امتیاز نے ویپ میں دستیاب مختلف فلیورز کے باعث سگریٹ چھوڑ کر یہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور ان کے مطابق اب وہ مِنٹی فریش رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.