پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عید قربان کے لئے جانور تو موجود ہیں لیکن بیوپاری کس بات سے پریشان ہیں؟ تشویشناک خبر منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر کی عوام ہکا بکا رہ جائے گی

پاکستان کے مختلف صوبوں میں بڑے جانوروں کی کثیر تعداد جن میں گائے، بیل اور ان کی اقسام شامل ہیں لمپی وائرس کا شکار ہیں

عید قربان کے لئے جانور تو موجود ہیں لیکن بیوپاری کس بات سے پریشان ہیں؟ تشویشناک خبر منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر کی عوام ہکا بکا رہ جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق ‘باجی ہمارا گزر بسر اور تمام تر جمع پونجی یہ جانور ہیں۔ لیکن اس سال سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ اگر کسی نے چالیس جانور پالے تھے تو ان میں سے اس کے دس جانور لمپی وائرس کی وجہ سے مر گئے اور جو باقی بجے وہ بھی بیماری کا شکار ہو گئے۔ ایسے بیوپاری کا تو سارا سال برباد ہو گیا ہے۔ کیونکہ وہ انھیں عید پر بیچ نہیں سکتا۔’

لاہور منڈی میں اپنے جانور لانے والے ایک بیوپاری نے کہا کہ سارا سال عید قرباں کا انتظار کرنے والا فارمر اور بیوپاری دونوں ہی اس سال پریشان ہیں۔ پاکستان کے مختلف صوبوں میں بڑے جانوروں کی کثیر تعداد جن میں گائے، بیل اور ان کی اقسام شامل ہیں لمپی وائرس کا شکار ہیں۔

صوبہ سندھ سے شروع ہونے والی یہ بیماری ملک کے دیگر حصوں میں پھیل چکی ہے جو مویشیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ جبکہ اس بیماری کا شکار ہونے سے ہزاروں کی تعداد میں جانور اب تک مر چکے ہیں اور لاکھوں جانور اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ فورٹ عباس سے آئے محمد اکرم اپنے 12 بڑے جانور لیے شیخوپورہ منڈی میں بیچنے کے لیے آئے تھے۔ تاہم جب وہ شیخوپورہ پہنچے تو ان کا ایک جانور لمپی وائرس کا شکار ہو گیا۔ کئی سو کلو میٹر کا سفر طے کر پہنچنے والے محمد اکرم اب پچھلے کئی روز سے منڈی میں ہی بیٹھے ہیں کیونکہ ان کا جانور جب تک ٹھیک نہیں ہو جاتا تب تک وہ واپس نہیں جا سکتے ہیں۔ انھیں منڈی انتظامیہ کی جانب سے وہاں ہی روک لیا گیا ہے۔

محمد اکرم کا کہنا تھا کہ اس سال ہمارے مویشی ہمیں فائدہ نہیں دے رہے بلکہ نقصان ہی دی رہے ہیں۔ محمد اکرم کو نہیں معلوم کہ ان کے جانور کو یہ بیماری کیسے ہوئی تاہم وہ اس بیماری کے بارے میں جانتے ضرور تھے کیونکہ ان کیعلاقے میں کئی لوگوں کے جانور اس وائرس کا شکار ہو کر مرے بھی اور بیمار بھی ہوئے۔ ان کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ بیوپاری جو بھی جانور خریدتا ہے دیکھ بھال کر لیتا ہے لیکن اس بیماری کا کوئی پتا نہیں چلتا کہ راستے میں ہی جانور کو ہو جائے۔ انھوں نے بتایا کہ اس جانور کے بیمار ہو جانے سے انھیں کم از کم دو لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے جانوروں کو لالنے لے جانے کے کرائے میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ ہم سارا سال محنت کر کے جانور پالتے ہیں اور پھر عید کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اچھے پیسے کما سکیں اور انھی پیسوں سے ہمارا سال بھر کا خرچہ چلتا ہے۔ اس دفعہ تو میں فورٹ عباس سے ساٹھ ہزار دے کریہاں پہنچا تھا اور اب پچھلے پانچ دن سے یہاں ہی بیٹھا ہو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہوگا؟ محمد اکرم کے جانور کو چیک کرنے والے ڈاکٹر محمد عتیق جو کہ شیخوپورہ منڈی کے انچارج بھی ہیں، انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بیماری کے بارے میں بتایا کہ ہم نے ہفتے والے دن تقریبا 80 سے 100 جانور منڈی میں داخل نہیں ہونے دیے جو لمپی بیماری کا شکار تھے۔ تاہم محمد اکرم جیسے لوگ جو کئی سو کلو میٹر کا سفر کرکے آتے ہیں اور فوری طور پر واپس نہیں جا سکتے ان کے لیے میں نے منڈی میں الگ جگہ مختص کر دی ہے جہاں ہم بیمار جانوروں کو قرنطیبہ کررہے ہیں۔

عمران خان کی نا اہلی، بشریٰ بی بی کی ہوشرباء ”واردات” غداری کے ٹرینڈز، مرکزی کردار بے نقاب، بیرون ملک فرار ہونے کی تیاریاں؟

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.