پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات کے فون کیسے ٹیپ کیے جاتے ہیں؟ اور ان کو ٹیپ کرنے کے پیچھے کن افراد کا ہاتھ ہے؟ سنسنی خیز انکشافات

انٹیلی جنس ایجنسیاں غیر قانونی طور پر فون ٹیپنگ کرتی ہیں اور عمران خان کی سکیور لائن ٹیپ کرنے پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے

پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات کے فون کیسے ٹیپ کیے جاتے ہیں؟ اور ان کو ٹیپ کرنے کے پیچھے کن افراد کا ہاتھ ہے؟ سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فلموں میں ہم ایسا منظر اکثر دیکھتے تھے کہ کسی گھر یا عمارت کے باہر ایک وین میں بیٹھے لوگ اپنے آلات کی مدد سے اندر ہونے والی گفتگو سن رہے ہیں۔ مگر اب کان لگا کر دوسروں کی گفتگو سننے کے اور بھی کئی جدید طریقے موجود ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر مبینہ وائر ٹیپنگ، فون ٹیپنگ اور آڈیو لیکس زیر بحث ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر رہنما شیریں مزاری نے الزام عائد کیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں غیر قانونی طور پر فون ٹیپنگ کرتی ہیں اور عمران خان کی سکیور لائن ٹیپ کرنے پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

جب اینکر شاہزیب خانزادہ نے ان سے پوچھا کہ کیا تحریک انصاف کی جانب سے نیوٹرلز پر تنقید کے بعد ان کے رہنماؤں کی آڈیوز ریکارڈ کر کے منظر عام پر لائی جا رہی ہیں تو ان کا جواب تھا کہ سیاسی مفاد کے لیے ہم نے کبھی اس طرح کی کوششیں نہیں کیں۔ جب مریم نواز کی مبینہ آڈیو آئی تو یہی ڈھول بجاتے رہے تھے۔ مگر اس ساری بحث میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جدید دور میں فون ٹیپنگ کس طرح کی جاتی ہے اور کیا اسے پکڑنے کا کوئی طریقہ موجود ہے۔ آسان لفظوں میں فون ٹیپنگ سے مراد کسی کے فون سے ہونے والی گفتگو کو بغیر اجازت سننا اور ریکارڈ کرنا اور اس سے معلومات حاصل کرنا ہے۔

انفارمیشن سکیورٹی اور ٹیلی کام کے شعبے سے منسلک حسن عماد نے کو بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایسا نظام موجود ہوتا ہے کہ وہ شک کی بنیاد پر کسی بھی کال کو ٹیپ کر سکتے ہیں جبکہ اس طرح کی ٹیکنالوجی عام لوگوں کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لینڈ لائن جیسے پی ٹی سی ایل کی ایکسچینج میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے آلات لگا دیتے ہیں اور ان کے پاس مکمل رسائی ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی کال کو ریکارڈ یا ٹیپ کر سکیں جبکہ موبائل نیٹ ورک میں بھی ایکسچینج ہوتے ہیں، ان میں بھی وہ اپنے آلات لگا کر کال کو سن سکتے ہیں۔

اسے سمجھانے کے لیے وہ بتاتے ہیں کہ (فون کال کے دوران)نیٹ ورک کی جانب سے گیٹ وے تک ڈیٹا پہنچایا جاتا ہے مگر درمیان میں ایجنسیاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی کو مانیٹر کر سکتی ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسے ٹیپ کیا جا رہا ہے اور کس کی کال ریکارڈ ہو رہی ہے، اس کا علم نیٹ ورک پرووائیڈرز کے پاس نہیں ہوتا۔ انھوں نے ہنستے ہوئے کہا ہو سکتا ہے اس وقت آپ کی اور میری کال بھی ریکارڈ ہو رہی ہو۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کسی کے لینڈ لائن نیٹ ورک کو ٹیپ کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ اس کی تار کے ساتھ ٹیمپرنگ کی جا سکتی ہے۔ پی ٹی سی ایل یا کوئی اور لینڈ لائن کی صورت میں کیبل جس ڈسٹریبیوشن بوکس سے گزر کر گھر آ رہی ہو وہاں کوئی بھی شخص اپنا ٹیلی فون لگا کر آپ کے نمبر سے کال ملا سکتا ہے اور سن سکتا ہے۔

حسن عماد نے کہا کہ اگر فون کی کیبل پر کوئی کنڈے ڈال دے یا بارش کی وجہ سے لائن جوائن ہوجائے تو ایک کال کے دوران دوسری کالز کی بھی آوازیں آرہی ہوتی ہیں۔ سائبر سکیورٹی کے ماہر اعتزاز محسن کہتے ہیں کہ ہر ٹیلی کام سینٹر میں کچھ ڈیوائسز (آلات) لگی ہوتی ہیں جو خاص طور پر لافل انٹرسیشپن کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ ‘اگر کسی کی کال ٹیپ کرنی ہو تو ان ڈیوائسز میں وہ نمبر درج کر دیے جاتے ہیں ہے اور جیسے ہی وہ شخص کال ملاتا ہے تو اس کی کال کی ریکارڈنگ سنی جا سکتی ہے۔’ انھوں نے بتایا کہ کریمینل انٹرسیپشن میں کوئی شخص آپ کے گھر یا دفتر کے باہر جا کر اپنی ڈیوائسز کے ذریعے کال کو غیر محفوظ چینل پر کنورٹ کر سکتا ہے، جیسے اسے تھری جی کو کم محفوظ نیٹ ورک ٹو جی پر منتقل کر دیا جاتا ہے جس میں انکرپشن اتنی مضبوط نہیں ہوتی۔ جیسے ہی آپ کال ملاتے ہیں تو آپ کا موبائل سب سے قریب کسی ٹاور کو تلاش کرتا ہے اور اس سے کنیکٹ ہو جاتا ہے۔ اگر گاڑی میں ایسی ڈیوائس لگی ہو جو بطور ٹاور کام کرے تو موبائل کسی ٹاور کے بجائے اس ڈیوائس سے کنیکٹ ہو جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.