پاکستانفیچرڈ پوسٹ

معاملہ ریاستی اداروں سے سوال کا ہو تو صحافیوں کو ہولا رکھنے کے لئے کیوں مجبور کیا جاتا ہے؟ چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سب چونک کر رہ گئے

ان پر حملہ کرنے کی وجہ شاید ان کی تقریر کا وہ حصہ تھا جس میں انھوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات کی تھی: ایاز میر

معاملہ ریاستی اداروں سے سوال کا ہو تو صحافیوں کو ہولا رکھنے کے لئے کیوں مجبور کیا جاتا ہے؟ چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سب چونک کر رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غداری یا بغاوت کے فتوے بانٹنے کا کلچر اب اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اور بات اب صرف فتوے بانٹنے تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اب تو ایسے افراد کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے جو حکومتِ وقت یا ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ابھی تک پاکستان میں تنقید کرنے والے افراد جن میں صحافی بھی شامل ہیں، ان کو راہِ راست پر لانے یا انھیں سبق سکھانے کے جو طریقے اپنائے گئے ہیں ان میں مبینہ طور پر جبری گمشدگی، تشدد کا نشانہ بنانا یا پھر ان کے خلاف مقدمات کا اندراج شامل ہے۔

تنقید کرنے والوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے اور ان کے خلاف مقدمات درج کروانے کے لیے ایسے افراد کو مقدمات میں مدعی بنایا جاتا ہے جس کے بارے میں مبینہ طور پر شاید درخواست دلوانے والوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں جانتا اور عموما ایسے افراد کو عدالتی کارروائی کے دوران پیش ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھا گیا۔ ماضی قریب میں صحافیوں کے خلاف جو مقدمات درج ہوئے اس میں ایک ہی مضمون ہوتا ہے کہ فلاں صحافی کے حکومت یا فوج مخالف کسی بیان سے ان سمیت پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے یا لوگوں کو اداروں کے خلاف اکسایا گیا لہذا ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینے سے متعلق فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے نے جب کور کمانڈر کو خطوط لکھے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کروانے والے مدعی کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے دور میں صحافی اور پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم اور صحافی اسد علی طور پر ریاستی اداروں کو مبینہ طور پر بدنام کرنے سے متعلق جو مقدمات درج ہوئے تھے اس میں بھی درخواست گزاروں کے بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے۔

حال ہی میں تجزیہ نگار ایاز امیر پر لاہور میں چند نامعلوم افراد نے حملہ کر کے انھیں زخمی کر دیا تھا۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ ان پر حملہ کرنے کی وجہ شاید ان کی تقریر کا وہ حصہ تھا جس میں انھوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اپنی تقریر میں انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کی موجودگی میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا جنھوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو پارلیمنٹ سے منظور کروا کر ایک قانون بنوا دیا لیکن ان کی طرف سے یا ان کی جماعت کی طرف سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ پر حملہ ہونے سے چند روز پہلے ایک شخص جن کا تعلق ایک حساس ادارے سے تھا وہ میرے پاس آئے تھے اور کہا تھا کہ میں ذرا آرمی چیف سے متعلق بات کرتے ہوئے ہتھ ہولا رکھوں۔

ایاز امیر کا کہنا تھا کہ وہ صرف اکیلے نہیں ہیں جن پر اداروں پر تنقید کرنے کی وجہ سے حملہ ہوا، اس سے پہلے متعدد صحافیوں کو بھی ایسے حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب اینکر پرسن عمران ریاض کو بھی ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ پاکستان کے خلاف بات کی جا رہی ہے۔ جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف اور پھر موجودہ آرمی چیف کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع لینا خود ادارے کے مفاد میں نہیں ہے، جبکہ اس کے برعکس انڈیا، برطانیہ اور امریکہ میں چاہے جیسے بھی حالات ہوں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جاتی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.