پاکستانفیچرڈ پوسٹ

فوج کے پاس کاروبار کرنے کے اختیارات کیوں ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوال اٹھا دیا، ملک بھر سمیت سیاسی حلقوں میں بھونچال مچا دینے والی خبر آگئی

فوج کے ویٹینری اور فارمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے سنہ 2019 میں مونال ریسٹورنٹ کے ساتھ کیا گیا لیز معاہدہ بھی غیر قانونی قرار دیدیا

فوج کے پاس کاروبار کرنے کے اختیارات کیوں ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوال اٹھا دیا، ملک بھر سمیت سیاسی حلقوں میں بھونچال مچا دینے والی خبر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کے ویٹینری اور فارمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مارگلہ ہلز نیشنل پارک ایریا میں 8068 ایکڑ اراضی پر کیا گیا ملکیتی دعویٰ مسترد کر دیا ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر E-8 میں پاکستان نیوی کے زیر انتظام چلنے والے گالف کورس کی تعمیر کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز مارگلہ ہلز نیشنل پارک کیس کا 105 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پاکستان بحریہ اور پاکستان آرمی نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر نافذ شدہ قوانین کی خلاف ورزی کی اور یہ قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے اور اشرافیہ کی گرفت کا ایک مثالی کیس تھا۔

یاد رہے کہ عدالت نے اس کیس میں شارٹ آرڈر (مختصر فیصلہ)11 جنوری 2022 کو جاری کیا تھا۔ عدالت نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی تباہی کے ذمہ داروں کے خلاف متعلقہ اداروں کو کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وزارت دفاع کو نیوی گالف کورس کے معاملے میں انکوائری کرنے جبکہ سیکرٹری دفاع کو فرانزک آڈٹ کروا کے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگوانے اور رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا احکامات صادر کیے گئے ہیں۔ عدالت نے پاکستان فوج کے ویٹینری اور فارمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے سنہ 2019 میں مونال ریسٹورنٹ کے ساتھ کیا گیا لیز معاہدہ بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی فارمز ڈائریکٹوریٹ کے پاس مونال انتظامیہ کے ساتھ اس نوعیت کا معاہدہ کرایہ داری کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔

عدالت نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت فارمز ڈائریکٹوریٹ نے مونال سے جگہ کا جو کرایہ حاصل وہ بھی غیرقانونی تھا۔ عدالت نے سیکریٹری وزارت دفاع کو حکم دیا ہے کہ وہ فوج کے فارمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے مونال سے حاصل کیا گیا کرایہ واپس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ تمام رقم قومی خزانے میں 60 دن کے اندر اندر جمع ہو۔ کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی جی ایچ کیو یا فارمز ڈائریکٹوریٹ کس قانون کے تحت پراپرٹی کا مالک ہو سکتا ہے، یا کمرشل لیز ایگریمنٹ (معاہدہ کرایہ داری)کر سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے تحت تینوں مسلح افواج وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں اور صدر پاکستان افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، آرمڈ فورسز کو اپنے دائرہ کار سے باہر بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی کاروباری سرگرمی میں حصہ لینے کا اختیار نہیں اور نہ ہی پاکستانی فوج کسی سٹیٹ لینڈ (ریاست کی زمین)کی ملکیت کا بھی کوئی دعوی نہیں کر سکتی ہے۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ مسلح افواج کا کام بیرونی جارحیت سے ملک کا دفاع اور طلب کیے جانے پر سول اداروں کی معاونت ہے، مسلح افواج دونوں ذمہ داریاں وفاقی حکومت کی اجازت سے سر انجام دے سکتی ہے، خود سے نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مسلح افواج کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ان کے آئینی حلف کی خلاف ورزی اور طے شدہ ذمہ داریوں سے انحراف ہے کیونکہ آئین واضح ہے کسی بھی زمین کی خرید و فروخت یا لیز کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، آرمڈ فورسز ملکیت، حصول یا کسی اور صورت میں پراپرٹی کو ڈیل نہیں کر سکتیں۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق زمین حکومت کی ملکیت ہے جبکہ اداروں اور اس کے افسران کو اس کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے، آئین اور قانون میں متعین کردہ حدود سے باہر جی ایچ کیو اور فارمز ڈائریکٹوریٹ زمین کی ملکیت، حصول یا اس کے انتظام کا دعوی نہیں کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.